روزانہ رائی کا استعمال صحت کے لیے کیوں مفید ہے؟

image

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) رائی صدیوں سے مختلف کھانوں میں ذائقے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے، تاہم اس میں موجود متعدد غذائی اجزاء اسے صحت کے اعتبار سے بھی اہم بناتے ہیں۔ رائی میں گلوکوسینولیٹس سمیت مختلف مرکبات، اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، سیلینیئم، میگنیشیم، مینگنیز، کیلشیم، زنک، پروٹین اور غذائی فائبر پایا جاتا ہے۔

غذائی فائبر نظامِ ہاضمہ کو بہتر رکھنے اور آنتوں کی صحت برقرار رکھنے میں مددگار ہوسکتا ہے جبکہ قبض سمیت بعض ہاضمے کے مسائل سے بچاؤ میں بھی معاون سمجھا جاتا ہے۔ رائی کے بیجوں میں موجود میگنیشیم اور کیلشیم ہڈیوں اور پٹھوں کی معمول کی کارکردگی کے لیے اہم معدنیات ہیں، جبکہ سیلینیئم جسم کے اینٹی آکسیڈنٹ نظام میں کردار ادا کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق رائی کو مناسب مقدار میں متوازن غذا کا حصہ بنایا جاسکتا ہے، تاہم اسے کسی بیماری کے علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ کسی مخصوص صحت کے مسئلے کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔