فرانس کے دارالحکومت پیرس میں حالات کشیدہ

image


پیرس: (ویب ڈیسک) فرانس کے دارالحکومت پیرس میں دنیا بھر کے مشہور سیاحتی مقام ایفل ٹاور کو ملازمین کی ہڑتال کے باعث بند کر دیا گیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ملازمین نے ایک ہندو مذہبی گروہ کے دورے کے دوران پیش آنے والے واقعے پر احتجاجاً کام روک دیا ہے۔ واقعے کے بعد ایفل ٹاور کی انتظامیہ اور ملازمین کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔

ملازمین کی یونین کی نمائندہ ڈیان ڈاوائن کے مطابق ہندو مذہبی گروہ کا وفد ایفل ٹاور پہنچا تو خواتین ملازمین کو اپنی جگہیں چھوڑنے کیلئے کہا گیا تاکہ وہاں مرد ملازمین کو تعینات کیا جا سکے۔ انہوں نے اس اقدام کو صنفی تفریق قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین ملازمین نے اسے اپنے لیے تذلیل سمجھا۔ ڈیان ڈاوائن کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے معذرت کے باوجود خواتین ملازمین کیلئے طرزِ عمل قابلِ قبول نہیں تھا۔

ایفل ٹاور کا انتظام سنبھالنے والی کمپنی سوسائٹی دیکسپلواٹاسیوں دے لا تور ایفل نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وفد کی درخواست پر یہ اقدام کیا گیا، تاہم کمپنی کو ان شرائط کو قبول نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یونین کے مطابق ملازمین نے پیر کی صبح اجلاس منعقد کیا تاکہ انتظامیہ سے بات چیت شروع کی جا سکے اور مستقبل میں خواتین ملازمین کے ساتھ ایسا رویہ نہ دہرائے جانے کو یقینی بنایا جا سکے۔ واضح رہے کہ بوچاسنواسی اکشر پرشوتم سوامی نارائن سنستھا سے وابستہ تقریباً 100 افراد پر مشتمل وفد نے ہفتے کے روز ایفل ٹاور کا دورہ کیا تھا۔