پنجاب کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں انتظامی تبدیلیوں کا فیصلہ
لاہور: (نیوز ڈیسک) پبلک سیکٹر یونیورسٹیز (دوسری ترمیم) ایکٹ 2026 پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ہائر ایجوکیشن کو موصول ہوگیا، جو گزشتہ اجلاس میں پیش کیا گیا تھا۔ مجوزہ قانون کے مطابق رجسٹرار، خزانچی اور کنٹرولر امتحانات کی تقرری حکومت سرچ کمیٹی کی سفارشات پر کرے گی، جبکہ عہدہ خالی ہونے کی صورت میں عارضی تعیناتی بھی کی جاسکے گی، تاہم عارضی افسر کی مدت چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہوگی۔
مجوزہ ایکٹ کے تحت رجسٹرار یونیورسٹی کے اکیڈمک ریکارڈ اور کامن سیل کی نگرانی کے ساتھ گریجویٹس کا رجسٹر برقرار رکھنے کا ذمہ دار ہوگا، جبکہ خزانچی کو چیف فنانشل آفیسر قرار دینے کی تجویز ہے۔ خزانچی سالانہ اور نظرثانی شدہ بجٹ تیار کرکے فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی اور سنڈیکیٹ کے سامنے پیش کرے گا اور یونیورسٹی فنڈز کے مقررہ مقاصد کے لیے استعمال کو یقینی بنائے گا، جبکہ کنٹرولر امتحانات طلبہ کے ریکارڈ، امتحانات کی جانچ اور انعقاد سے متعلق امور کا ذمہ دار ہوگا۔
مجوزہ ترامیم پنجاب یونیورسٹی لاہور، یو ای ٹی لاہور، بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، یو ای ٹی ٹیکسلا، فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی سمیت صوبے کی متعدد سرکاری جامعات پر لاگو ہوں گی۔ قائمہ کمیٹی برائے ہائر ایجوکیشن دو ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی، جس کے بعد بل ایوان سے منظور ہونے اور حتمی منظوری کے لیے گورنر پنجاب کو بھیجے جانے کا امکان ہے۔