مائیکرو پلاسٹکس اور پھیپھڑوں کے کینسر کے درمیان ممکنہ تعلق کا انکشاف
سکتا۔
بار سلونا: (ویب ڈیسک) مائیکرو پلاسٹکس انتہائی چھوٹے پلاسٹک ذرات کو کہا جاتا ہے جو ماحول، خوراک، پانی اور ہوا کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔ نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ یہ ذرات انسانی نظام تنفس اور پھیپھڑوں کی صحت پر کس طرح اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ تحقیق کے نتائج میں مائیکرو پلاسٹکس اور پھیپھڑوں کے کینسر کے درمیان ممکنہ تعلق کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان ذرات کے پھیپھڑوں میں پہنچنے سے سوزش اور خلیاتی سطح پر تبدیلیاں پیدا ہونے کا امکان ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مائیکرو پلاسٹکس سے پیدا ہونے والی مسلسل سوزش یا دیگر حیاتیاتی ردِعمل طویل مدت میں صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔ تاہم یہ تحقیق اس بات کو حتمی طور پر ثابت نہیں کرتی کہ مائیکرو پلاسٹکس براہِ راست پھیپھڑوں کے کینسر کا سبب بنتے ہیں۔ کینسر ایک پیچیدہ بیماری ہے جس کے کئی عوامل اس کے خطرے کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اسی لیے ماہرین نے مزید تحقیق اور طویل مدتی مطالعات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق مائیکرو پلاسٹکس کی انسانی صحت پر طویل مدتی اثرات کے بارے میں ابھی بہت کچھ جاننا باقی ہے۔ روزمرہ زندگی میں پلاسٹک کے غیر ضروری استعمال کو کم کرنا اور ماحول میں پلاسٹک کے پھیلاؤ کو روکنا صحت اور ماحول دونوں کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔ تحقیق نے ایک اہم ماحولیاتی اور طبی مسئلے کی جانب توجہ ضرور مبذول کرائی ہے۔ تاہم عوام کو اس خبر کو مائیکرو پلاسٹکس اور کینسر کے درمیان قطعی ثابت شدہ وجہ کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔