طالبان کے دور میں افغانستان میں القاعدہ کے 8 نئے تربیتی مراکز قائم ہونے کا انکشاف
واشنگٹن: (ویب ڈیسک) واشنگٹن پوسٹ کی خصوصی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد القاعدہ نے افغانستان میں کم از کم 8 نئے تربیتی مراکز قائم کیے ہیں، جبکہ طالبان حکومت نے القاعدہ اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے لیے ایسا ماحول پیدا کر رکھا ہے جہاں وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان کے کم از کم 14 صوبوں میں القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں نے اپنے نیٹ ورک دوبارہ قائم کرلیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق القاعدہ افغانستان میں ٹی ٹی پی سمیت دیگر گروہوں کو خفیہ کارروائیوں اور سکیورٹی سے متعلق تربیت اور مشاورت فراہم کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے حوالوں سے بتایا گیا ہے کہ القاعدہ کے ارکان ٹی ٹی پی کے لیے خودکش حملہ آوروں کی تربیت بھی کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کے تقریباً 7 ہزار جنگجو موجود ہیں اور تنظیم نے کم از کم 4 صوبوں میں تربیتی کیمپ قائم کر رکھے ہیں۔ افغان سرزمین سے پاکستانی فوجی چوکیوں اور دیگر اہداف پر سینکڑوں سرحد پار حملوں کا بھی انکشاف کیا گیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق افغانستان میں داعش خراسان بھی اپنے نیٹ ورک کو وسعت دے رہی ہے اور تقریباً 2 ہزار جنگجو بھرتی کرکے شمالی افغانستان کو تربیت اور کارروائیوں کا مرکز بنا رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس صلاحیتوں میں کمی کے باعث نئے دہشت گرد مراکز کی نگرانی مشکل ہوگئی ہے، جبکہ القاعدہ، ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کی بڑھتی سرگرمیاں خطے اور عالمی سلامتی کے لیے نئے خطرات پیدا کر رہی ہیں اور افغانستان ایک بار پھر دہشت گرد گروہوں کے لیے اپنی صلاحیتیں بحال کرنے کا ماحول فراہم کر رہا ہے۔