ایران کا ایٹمی پروگرام

image


تہران: (ویب ڈیسک) ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز نے ایران کو عدم تعاون پر سلامتی کونسل میں بھیجنے کی قرارداد منظور کرلی ہے۔ ایران نے جواب میں این پی ٹی سے الگ ہونے اور ایٹمی پالیسی پر نظرِ ثانی کا عندیہ دے دیا ہے۔

ایرانی حکام نے کہا ہے کہ این پی ٹی سے علیحدگی اور ایٹمی پالیسی میں تبدیلی ممکنہ آپشنز ہیں۔ تاہم ایرانی دفترِ خارجہ نے معاہدے سے باضابطہ علیحدگی کا اعلان نہیں کیا۔ ایرانی حکام نے عالمی ایٹمی ایجنسی کے اقدامات کو سیاسی قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔

قرارداد کے حق میں 23 ممالک نے ووٹ دیا جبکہ روس، چین اور نائیجر نے مخالفت کی ہے۔ یورپی یونین نے ایران سے ایٹمی مواد اور تنصیبات سے متعلق مکمل معلومات دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ روس اور چین کی ویٹو طاقت کے باعث ایران کے خلاف فوری عملی کارروائی کے امکانات محدود سمجھے جا رہے ہیں۔