پہلگام واقعہ: بھارتی صحافی کے دعووں نے مودی حکومت پر سوال اٹھا دیئے

image


نئی دہلی: (ویب ڈیسک) بھارتی صحافی اجے شکلا سمیت بعض حلقوں کی جانب سے پہلگام واقعے کے حوالے سے ایسے دعوے سامنے آئے ہیں جنہوں نے مودی حکومت کے بیانیے پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اجے شکلا کے مطابق واقعے کو پاکستان مخالف بیانیے کیلئے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بعض سیاسی و کاروباری مفادات کے حصول کی کوشش بھی کی گئی۔ ان دعوؤں میں امیت شاہ کے بیٹے سے منسوب ہوٹل کی تعمیر اور جائیدادوں و اراضی پر مبینہ قبضے جیسے الزامات بھی شامل ہیں، تاہم ان کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

پہلگام واقعے کے پس منظر میں بھارتی سیاست اور سیکیورٹی حلقوں سے وابستہ بعض شخصیات کے بیانات بھی بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ بعض ناقدین نے اسے پہلے سے طے شدہ منصوبہ قرار دیا، جبکہ سابق گورنر جموں و کشمیر ستیاپال ملک سمیت بعض بھارتی شخصیات نے حکومت سے سخت سوالات اٹھائے اور ذمہ داری کے تعین کا مطالبہ کیا۔ اسی طرح بھارتی سیاستدانوں اور دیگر عوامی شخصیات کی جانب سے بھی حکومت کے مؤقف پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا ہے، تاہم ان بیانات کو حتمی ثبوت قرار دینے کے بجائے دعووں اور سیاسی مؤقف کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔

واقعے کے فوراً بعد پاکستان پر الزام عائد کیے جانے کی وجہ سے شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کی ضرورت مزید اجاگر ہو گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے کسی بھی واقعے کی ذمہ داری طے کرنے کیلئے قابلِ اعتماد شواہد، آزادانہ تحقیقات اور بین الاقوامی معیار کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔ پہلگام واقعے سے متعلق سامنے آنے والے متضاد دعوے اس امر کے متقاضی ہیں کہ سیاسی بیانیوں سے بالاتر ہو کر حقائق سامنے لائے جائیں تاکہ نہ صرف ذمہ داروں کا تعین ہو بلکہ خطے میں کشیدگی بڑھانے والے الزامات اور پروپیگنڈے کا بھی سدباب کیا جا سکے۔