پنجاب کے پی پی پی منصوبوں سے 22 ارب روپے ریونیو کی توقع
لاہور: (نیوز ڈیسک) پی پی پی موڈ میں مریدکے، نارووال، شکرگڑھ، نارووال، فیصل آباد رنگ روڈ، فیصل آباد ساہیانوالہ اور فیصل آباد، سمندری، رجانہ سمیت مختلف سڑکوں کے منصوبے شامل ہیں۔ نجی کنٹریکٹرز سات سال تک سڑکوں پر این ایچ اے سے منسلک ٹول کلیکشن کریں گے اور متعلقہ سڑکوں کی دیکھ بھال و تعمیر و مرمت بھی ان کی ذمہ داری ہوگی۔
پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کی وائس چیئرپرسن اور سینئر وزیر مریم اورنگزیب کے مطابق مزید چار سڑکیں بھی پی پی پی موڈ پر منتقل کی جائیں گی، جبکہ واٹر اینڈ سینیٹیشن، ٹورازم، ویسٹ ٹو انرجی، پارکنگ پلازہ اور اسپورٹس گراؤنڈز سمیت متعدد منصوبے پائپ لائن میں ہیں۔ پی پی پی منصوبوں کی پراسیسنگ کا دورانیہ بھی دو سال سے کم کرکے چھ ماہ کردیا گیا ہے۔
پی پی پی اتھارٹی کے تحت سرکاری جامعات اور میڈیکل کالجز میں ہاسٹلز، ورکنگ ویمن کیلئے 14 ہاسٹلز، فیصل آباد میں ماڈرن ٹرک ٹرمینل، ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں نرسنگ ہاسٹل اور مختلف شہروں میں دیگر منصوبے بھی شامل ہیں۔ کمشنر کی سربراہی میں ڈویژنل پی پی پی ورکنگ پارٹی کو 500 ملین روپے تک کے منصوبوں کی منظوری اور عملدرآمد کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔