نئی جوہری گھڑیاں تیار٬ وقت کی پیمائش میں بڑی پیش رفت

image

ویانا: (ٹیکنالوجی ڈیسک) یورپ اور چین کے سائنس دانوں کی مشترکہ ٹیم نے دو تجرباتی جوہری گھڑیاں تیار کی ہیں، جنہیں مستقبل میں وقت کی پیمائش کے لیے استعمال کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ سائنسی جریدے نیچر میں 7 اکتوبر کو شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، محققین نے پہلی مرتبہ عملی طور پر یہ ثابت کیا کہ جوہری مرکزے میں ہونے والی توانائی کی تبدیلی کو وقت کی پیمائش کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

روایتی ایٹمی گھڑیاں ایٹم کے الیکٹرانز میں توانائی کی تبدیلیوں کی بنیاد پر کام کرتی ہیں، جبکہ نئی ٹیکنالوجی میں ایٹم کے مرکزے میں ہونے والی تبدیلیوں کو استعمال کیا گیا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق مرکزے پر مبنی یہ طریقہ زیادہ مستحکم اور حساس گھڑیوں کی تیاری کی بنیاد بن سکتا ہے، جس سے وقت کی پیمائش کے موجودہ نظام کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

دونوں تجرباتی گھڑیاں تھوریم-229 نامی آئسوٹوپ پر مبنی ہیں، جسے کیلشیم فلورائیڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ خصوصی الٹرا وائلٹ لیزر کے ذریعے مرکزے میں توانائی کی تبدیلی کو متحرک کیا جاتا ہے، جبکہ مرکزہ لیزر کی فریکوئنسی کو مستحکم رکھنے کے لیے حوالہ فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ یہ ابتدائی نمونے فی الحال بہترین آپٹیکل ایٹمی گھڑیوں کی کارکردگی تک نہیں پہنچ سکے، تاہم محققین کے مطابق یہ پیش رفت ٹیکنالوجی کو مزید ترقی دینے اور طبیعیات کے بنیادی اصولوں کی تحقیق کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہے۔


#TechnologyNews
#11thOct2026
#AtomicClocks
 #QuantumPhysics
 #Science
 #Thorium229
 #TimeMeasurement
#TVN
#News
#TVNNews
#TVNUrdu
#TVNTechnology
#TheViewsNetwork