مستقبل میں پیسوں کی بچت بے مقصد ہو جائے گی، ایلون مسک کی پیشگوئی
نیویارک: (ٹیکنالوجی ڈیسک) معروف امریکی کاروباری شخصیت اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہ ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے شعبوں میں ہونے والی پیشرفت مستقبل میں پیسوں کی بچت کی ضرورت کو غیر اہم بنا سکتی ہے۔
ایلون مسک کے مطابق اے آئی اور روبوٹکس میں مسلسل ترقی کے نتیجے میں اشیا اور خدمات کی پیداوار کے طریقے یکسر تبدیل ہو سکتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پیداواری صلاحیت میں اضافے اور مختلف شعبوں میں خودکار نظام کے استعمال سے انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے درکار وسائل اور اخراجات میں نمایاں تبدیلی آنے کا امکان ہے۔
ان کی اس پیشگوئی کے مطابق مستقبل میں ٹیکنالوجی کی ترقی معاشی سرگرمیوں، روزگار اور دولت کے روایتی تصورات کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اگر روبوٹس اور مصنوعی ذہانت زیادہ تر پیداواری اور خدماتی کام انجام دینے لگیں تو اشیا اور سہولیات کی دستیابی موجودہ دور کے مقابلے میں مختلف ہو سکتی ہے۔
تاہم مستقبل میں پیسے کی بچت غیر ضروری ہونے سے متعلق ایلون مسک کا بیان ایک پیشگوئی ہے، جس کا انحصار مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور عالمی معاشی نظام میں ہونے والی آئندہ تبدیلیوں پر ہوگا۔ یہ واضح نہیں کہ ایسی صورتحال کب تک ممکن ہو سکے گی اور اس کے نتیجے میں موجودہ مالیاتی نظام کس حد تک تبدیل ہوگا۔
TecnologyNews
#30thOct2026
#ElonMusk
#ArtificialIntelligence
#AI
#Robotics
#FutureTechnology
#FutureEconomy
#Money
#Technology
#Automation
#Innovation
#DigitalFuture
#GlobalEconomy
#TVN
#News
#TVNUrdu
#TVNTecnology
#TheViewsNetwork