کیا دمدار ستاروں نے زمین پر زندگی شروع نہیں کی تھی؟
کیلیفورنیا:(ٹیکنالوجی ڈیسک) کئی سالوں سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ دمدار ستاروں نے زمین پر زندگی شروع کرنے میں مدد دی، لیکن اب نئی تحقیق سے اس نظریے پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ نئی کمپیوٹر سیمولیشنز کے مطابق دمدار ستارے جب زمین سے ٹکراتے تھے تو ان کی رفتار اتنی زیادہ ہوتی تھی کہ ان میں موجود زندگی بنانے والے کیمیکلز جل کر ختم ہو جاتے تھے۔ اس لیے ان کا محفوظ حالت میں زمین تک پہنچنا تقریباً ناممکن تھا۔
سائنسدانوں کا خیال تھا کہ زندگی کے بنیادی اجزاء خلا سے آئے، اس خیال کو سائنسی اصطلاح ’’پین اسپرمیا‘‘ کہا جاتا ہے، یہ نظریہ 1908ء اور 1961ء سے زیر بحث ہے۔ دمدار ستاروں کو ’’گندے برفانی گولے‘‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان میں برف کے ساتھ نامیاتی مادہ بھی ہوتا ہے اور سمجھا جاتا تھا کہ یہی زمین پر پانی اور زندگی کے اجزاء لائے، لیکن تحقیق کرنے والے سائنسدان اینسلو کا کہنا ہے کہ شدید ٹکراؤ کی وجہ سے یہ مادے محفوظ نہیں رہ سکتے تھے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ 54 فیصد کیسز میں دمدار ستارے زمین سے ٹکرائے ہی نہیں، باقی میں ٹکراؤ ہوا بھی تو زندگی کیلئے کافی مادہ نہیں بچا۔ اگر سمندر میں گرتے تو وہ فوراً پانی میں گھل جاتا۔
محققین نے خاص طور پر ہائیڈروجن سائنائیڈ کا جائزہ لیا جو امینو ایسڈ بنانے میں مدد دیتا ہے۔ لیکن ٹکراؤ کے دوران پیدا ہونے والے شدید دباؤ اور گرمی سے یہ بھی تباہ ہو جاتا تھا۔ اس کے علاوہ فاسفورس اور سلفر جیسے ضروری اجزاء تو دمدار ستاروں میں موجود ہی نہیں ہوتے۔ اب سائنسدانوں کے پاس دو اور امکانات ہیں، ایک یہ کہ زندگی کے اجزاء خود زمین پر ہی بنے، دوسرا یہ کہ یہ سیارچوں (ایسٹرائیڈز) کے ذریعے آئے، جو دمدار ستاروں سے آہستہ رفتار سے ٹکراتے تھے۔ بینیو اور ریوگو سیارچوں سے ملنے والے نمونوں میں امینو ایسڈز ملے بھی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی مادے مریخ پر محفوظ رہنے کے زیادہ امکانات تھے کیونکہ مریخ زمین کی نسبت چھوٹا ہے اور وہاں ٹکراؤ کی رفتار کم تھی۔ اس سے مریخ پر پرانی زندگی کے سوال کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم کچھ سائنسدان اب بھی کہتے ہیں کہ دمدار ستاروں کے کردار کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا، ہو سکتا ہے انہوں نے دوسرے نامیاتی مادے زمین تک پہنچائے ہوں جو آسانی سے تباہ نہیں ہوتے۔
#TechnologyNews
#1stNov2026
#Comet
#LifeOnEarth
#Panspermia #SpaceResearch
#TVN
#TVNNews
#TVNUrdu
#TVNTechnology
#TheViewsNetwork