چین کے خفیہ خلائی طیارے کی نایاب تصویر جاری، جدید خلائی ٹیکنالوجی کے راز منظرِ عام پر

image


واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکی دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی نے چین کے خفیہ اور دوبارہ استعمال کے قابل خلائی طیارے کی ایک نایاب تصویر جاری کردی ہے، جس میں طیارے کا کارگو بے کھلا ہوا اور اس کے پچھلے حصے سے ایک اور خلائی جہاز منسلک دکھائی دیتا ہے۔ یہ تصویر 26 اکتوبر 2026ء کو جاری ہونے والی امریکی رپورٹ ’’چیلنجز ٹو سیکیورٹی اِن اسپیس‘‘ میں شامل ہے، جس سے چین کے خلائی پروگرام سے متعلق مزید معلومات سامنے آئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، سیٹلائٹ امیجری کمپنی وینٹور کے ورلڈ ویو تھری سیٹلائٹ نے یہ تصویر 28 مئی 2024ء کو تقریباً 90 کلومیٹر کے فاصلے سے حاصل کی تھی۔

چین کے اس خلائی طیارے کو عموماً ’’شن لونگ‘‘ کہا جاتا ہے، جو راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا جاتا ہے اور مشن مکمل ہونے پر رن وے پر واپس اترتا ہے۔ اس کی ساخت میں پروں، دو عمودی دم نما حصوں اور سامان رکھنے کیلئے ایک مرکزی حصے کی موجودگی اسے امریکی خلائی فورس کے زیرِ استعمال بوئنگ کے تیار کردہ X-37B خلائی طیارے سے مشابہ بناتی ہے۔ چین نے ستمبر 2020ء میں اس کے تجرباتی مشنز شروع کیے، جبکہ اس کے دوسرے اور تیسرے مشن بالترتیب 276 اور 268 دن خلا میں گزارنے کے بعد مکمل ہوئے۔

چین نے 7 فروری 2026ء کو لانگ مارچ-2 ایف راکٹ کے ذریعے اس خلائی طیارے کا چوتھا مشن روانہ کیا، جس کا اعلان کردہ مقصد دوبارہ قابلِ استعمال خلائی ٹیکنالوجی کی آزمائش ہے۔ تاہم، چینی حکام نے اس منصوبے کے اصل مقاصد، طیارے میں لے جائے جانے والے آلات اور اس کی ممکنہ عسکری صلاحیتوں کے بارے میں تفصیلات خفیہ رکھی ہوئی ہیں۔ دوسری جانب، امریکا بھی اپنے X-37B خلائی طیارے کے ذریعے طویل مدتی خلائی مشنز اور جدید ٹیکنالوجی کے تجربات جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان خلائی ٹیکنالوجی میں مسابقت کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔