ایران کا امریکا کو دوٹوک پیغام
تہران: (ویب ڈیسک) ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ جنگ روکنے کے لیے اب فیصلہ امریکا کو کرنا ہے، جبکہ خطے کے ممالک کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایران انگلی ٹریگر پر رکھ کر بیٹھا ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ دوحہ اور اسلام آباد ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں فعال ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں متعدد ٹیلی فونک رابطے اور سفارتی کوششیں کی گئی ہیں۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران سفارتکاری اور جنگ، دونوں صورتوں کے لیے پہلے سے زیادہ تیار ہے اور اب واشنگٹن کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرتا ہے یا دوبارہ فوجی کارروائی کی غلطی دہراتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران سفارتی حل کے لیے واضح منصوبہ اور منصفانہ شرائط پیش کر چکا ہے، جبکہ کسی نئی فوجی کارروائی یا دھوکے کا جواب پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کھولنے اور مذاکرات کی بحالی کا انحصار ایران کی شرائط تسلیم کرنے پر ہے اور تہران کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔ ان کے مطابق علی باقری کا دورۂ بیجنگ بھی علاقائی امن و استحکام کے لیے اسٹریٹجک مشاورت کا حصہ ہے اور ایران اپنے اہم شراکت داروں سے مسلسل رابطے میں ہے۔