منصور علی شاہ کے بیان پر الیکشن کمیشن کا ردعمل
اسلام آباد: (نیوز ڈیسک) الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ترجمان نے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے حالیہ انٹرویو پر ردعمل دیتے ہوئے ان کے مؤقف کو آئینی و قانونی حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ عدالتی ریکارڈ کو منتخب حوالوں اور ادھورے تناظر میں پیش کرنا مناسب نہیں، جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا انتخابات سے متعلق فیصلے کو 4-3 کا قرار دینا بھی درست نہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق جسٹس (ر) منصور علی شاہ کا مؤقف سپریم کورٹ کے اپنے حتمی فیصلوں کے برعکس ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف مقررہ مدت میں انٹرا پارٹی انتخابات کا قانونی معیار پورا کرنے میں ناکام رہی اور اسے تین مواقع بھی فراہم کیے گئے، تاہم آئینی تقاضے پورے نہ ہونے پر الیکشن ایکٹ کے تحت انتخابی نشان واپس لیا گیا۔
ترجمان کے مطابق سپریم کورٹ نے انتخابی نشان سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا اور نظرثانی درخواست بھی مسترد کردی تھی۔ مزید کہا گیا کہ پی ٹی آئی نے خود ہائیکورٹ سے انٹرا پارٹی کیس میں حکم امتناع حاصل کیا تھا، تاہم پارٹی آج بھی الیکشن کمیشن کے ریکارڈ میں بطور رجسٹرڈ سیاسی جماعت موجود ہے۔