'سولر' مستقبل ہے

image

پہلا حصہ

دی ویووز نیٹ ورک: 21ویں صدی میں وطنِ عزیز پاکستان کو جو مسائل بری طرح تکلیف پہنچا رہے ہیں ان میں سے سب سے بڑا مسئلہ انرجی کا بحران ہے۔ اس انرجی کے بحران کے اثرات نہ صرف گھریلو سطح پر ہوتے ہیں بلکہ صنعتی سطح پر بھی اس کے دئیے ہوئے زخم محسوس کیے جاتے ہیں۔ کارخانوں اور فیکٹریوں کو یا تو بجلی مکمل طور پر دستیاب نہیں ہوتی، اگر ہوتی بھی ہے تو وہ اتنے مہنگے داموں ان کو ملتی ہے کہ اس سے ہمارے ملک کے کارخانہ دار کو ایک چیز تیار کرتے ہوئے اس پر بہت زیادہ خرچ آتا ہے۔ نتیجتاً یہ ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کی چیز بین الاقوامی سطح پر باقی چیزوں سے مقابلہ نہیں کر پاتی۔

انرجی کا بحران پاکستان میں کوئی نئی بات نہیں ہے، تاہم حالیہ کچھ عرصے میں مسائل اور بھی بڑھ گئے ہیں جب روس اور یوکرین کی جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر بحران پیدا ہوئے ہیں۔ اس جنگ کی وجہ سے نہ صرف بحران پیدا ہوا بلکہ اشیاء کی قیمتیں بھی بہت زیادہ بڑھیں ہیں۔ ہم چونکہ اپنی بجلی فوسل فیولز سے پیدا کرتے ہیں اور ہماری انرجی کا بہت زیادہ حصہ درآمد شدہ تیل سے پیدا کی گئی بجلی کے اوپر منحصر ہے اس لئے ہمارا ملک اس بحران سے بہت زیادہ متاثر ہوا۔ اب چونکہ یہ ایک ایسا بحران ہے جو کہ عشرہ گزرنے کے بعد ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تو ماہرین یہ خیال کرتے ہیں کہ ہمیں اس بحران سے بچنے کیلئے انرجی حاصل کرنے کے مزید متبادل اور سستے ذرائع تلاش کرنے ہوں گے۔ سالوں سے ہم حکومتی ایوانوں کی طرف سے بھی ایسی ہی کچھ باتیں سنتے آ رہے ہیں۔ ابھی حال ہی میں 16 مہینوں کی تجربہ کاروں کے مرّبہ کی حکومت نے بھی یہی اعلان کیا تھا کہ ہم انرجی کو بچانے کا پلان لے کے آ رہے ہیں۔ سابق وزیرِاعظم جناب میاں محمد شہباز شریف نے گورنمنٹ آفسز کو ایک ٹارگٹ دیا کہ ہم نے اپنی انرجی کے استعمال میں 30 فیصد کمی لانی ہے۔

 اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ ہم پیٹرول سے چلنے والی موٹر سائیکلز کی بجائے بجلی سے چلنے والی موٹر سائیکلز لے کے آئیں گے تا کہ اس سے بھی ہماری فیول کی بچت ہو۔ پرائیویٹ سیکٹر کو بھی یہ ہدایات دی گئی تھیں کہ اپنی انرجی کی پیداوار کو مرحلہ وار سولر پینلز پر کنورٹ کیا جائے۔ یہ بہت اچھے فیصلے تھے لیکن افسوس کہ یہ صرف اعلانات کی حد تک فیصلے تھے تاہم اس کے اوپر عمل درآمد کچھ بھی نہیں ہوا۔ ماضی میں کئی بین الاقوامی اداروں نے کئی دفعہ کئی طریقے بتائے۔ مثال کے طور پر مارچ 2017ء میں عالمی بینک نے پاکستان سولر میپ جاری کیا جس میں پاکستان کو سولر پاور جنریشن کیلئے موزوں ترین لوکیشن قرار دیا۔ یہ میپ عالمی بینک اور پاکستان آلٹرنیٹو انرجی ڈیویلپمنٹ بورڈ نے مل کر تیار کیا، لیکن چھ سال گزرنے کے بعد ہم ابھی تک کسی بیرونی بزنس مین کو اس بات پر راضی نہیں کر پائے کہ وہ آ کر پاکستان میں سولر پر سرمایہ کاری کرے۔

اب جہاں دنیا انرجی حاصل کرنے کے ان متبادل سستے ذرائع پر شفٹ ہو رہی ہے پاکستان کیلئے بھی ضروری ہے کہ اپنی انرجی کے حصول کے کچھ حصے کو ان قدرتی وسائل کے اوپر شفٹ کرے تاکہ پاکستان کا کارخانہ دار، زمیندار اور گھریلو سطح پر سستی بجلی کی فراہمی ممکن ہو۔ اس سلسلے میں ہم اپنے بہت اچھے ہمسائے چائنہ سے سبق حاصل کر سکتے ہیں۔ اگرچہ چائنہ نے تھرمل پاور پلانٹ کے اوپر اپنا انحصار پچھلے کچھ عرصہ میں بڑھا دیا ہے تاہم اپنے نئے پانچ سالہ پلان کے تحت انرجی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے چائنہ انرجی حاصل کرنے کے باقی متبادل ذرائع پر بھی شفٹ ہو رہا ہے۔

چائنا کے 'نئے پانچ سالہ پلان' کے مطابق، جو کہ چائنہ نیشنل ڈیویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن کی طرف سے جاری کیا گیا،2025ء تک چائنا کی 33 فیصد بجلی رینیویبل انرجی سورسز سے آئے گی جو کہ 2020ء میں 29 فیصد تھی۔ اس کے ساتھ چائنہ میں سالانہ پیدا کی گئی انرجی کی مقدار 3.3 ٹریلین کلو وارٹ آورز ہوجائیگی۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ چائنا موجودہ دنیا میں رینیوایبل انرجی پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس نے سولر اور ونڈ انرجی پروجیکٹس کے اوپر بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے تاکہ آلودگی کو کنٹرول کیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق چائنہ ابھی بھی دنیا کا سب سے زیادہ آلودگی پیدا کرنے والا ملک ہے، تاہم دوسری طرف چائنہ نے انرجی حاصل کرنے کے ان متبادل ذرائع پر پچھلے سال 4.3 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے۔

جاری ہے