'سولر' مستقبل ہے
دوسرا اور آخری حصہ
دی ویووز نیٹ ورک: جب بات پاکستان میں سولر کے ذریعے سے حاصل کی جانے والی انرجی پر آتی ہے تو یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان پوری دنیا میں مذکورہ ذریعے سے حاصل کی جانے والی انرجی کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ موضوع جگہ ہے جہاں سال میں تقریبا 315 دن دھوپ پڑتی ہے، لیکن ہم سولر کے ذریعے حاصل کی جانے والی انرجی میں 44 ویں نمبر پر ہیں۔ پاکستان سولر انرجی کے ذریعے ہر سال 2.324 ملین میگا واٹ بجلی حاصل کر سکتا ہے۔ بدقسمتی سے ابھی تک حکومت پاکستان کی طرف سے کبھی بھی حوصلہ افزا اقدامات نہیں کیے گئے جن کے ذریعے عام عوام اس سستے ذریعے سے انرجی حاصل کر سکے، تاہم یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ چونکہ ہماری زیادہ تر انرجی آئل اور کول کے ذریعے پوری کی جاتی ہے جو چیز جو ہمیں شدید انرجی کہ بحران کی طرف لے جا سکتی ہے۔
سورج کے ذریعے حاصل ہونے والی اس انرجی کو استعمال میں لانے کیلئے دنیا کے بیشتر ممالک بڑے لیول پر اقدامات کر رہے ہیں۔ انٹرنیشنل رینیویبل انرجی ایجنسی کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق چائنہ اس وقت 340 گیگا واٹ انرجی سولر کے ذریعے پیدا کر رہا ہے جو کہ دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ اسی طرح یہ ملک سولر پینلز بنانے میں بھی دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق چینل نے ابھی تک اس منصوبے پر 50 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ رقم پورے براعظم یورپ کی طرف سے کی گئی سرمایہ کاری سے دس گنا زیادہ ہے۔
سولر کے ذریعے انرجی حاصل کرنے میں چائنہ کے بعد جن ممالک کا نمبر آتا ہے اس میں امریکہ 102.9 گیگا واٹ جاپان 78.5 گیگا واٹ، جرمنی 62 گیگا واٹ اور انڈیا 57 گیگا واٹ ہیں۔ اس وقت پاکستان میں مختلف ذرائع سے حاصل کی جانے والی انرجی کی صلاحیت 40 ہزار میگا واٹ ہے جس میں سے 24 فیصد انرجی آئل کے ذریعے، 33 فیصد پانی، 20 فیصد کول، 12 فیصد گیس، 7 فیصد نیوکلیئر انرجی، 2 فیصد ہوا اور صرف 1.4 فیصد سولر سے ہم حاصل کرتے ہیں۔ اگرچہ سولر کے لگائے گئے پلانٹس ہمیں 600 میگا واٹ بجلی دے سکتے ہیں تا ہم ابھی تک ہم ان سے صرف ٹوٹل انرجی کا 1.4 فیصد حاصل کر رہے ہیں۔
ایشین ڈیویلپمنٹ بینک کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق سینٹرل ایشین ممالک بشمول پاکستان میں 2030ء تک انرجی کی ضرورت میں 30 فیصد اضافہ ہو جائے گا۔ اس ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے گورنمنٹ کو انرجی بحران پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔ پاکستان سولر انرجی کے ذریعے ہزاروں میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو کہ ماحول دوست بھی ہیں اور کم خرچ بھی۔ اس وقت پاکستان 64 فیصد انرجی تھرمل پاور سے حاصل کر رہا ہے جو کہ بہت زیادہ مہنگی بھی ہے اور ماحول دشمن بھی۔ اس مہنگی بجلی کے ذریعے تیار کی جانے والی پروڈکٹ میں ہمارا کارخانہ دار انٹرنیشنل مارکیٹ میں اتنا منافع حاصل نہیں کر سکتا جتنا دوسرے ملک کا ایکسپورٹر حاصل کرتا ہے۔
آخری بات جو ہمیں ہمارے ذہنوں میں مکمل ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ دنیا کے بیشتر ممالک اس سیکٹر میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر سعودی عریبیہ، جس کے پاس تیل کے بہت زیادہ ذخائر ہیں، نے 200 گیگا واٹ سولر پروجیکٹ لگائے ہیں۔ جرمنی نے 200 بلین ڈالرز پچھلے 20 سالوں میں مختلف سولر پروجیکٹس پر لگائے ہیں۔ اسی طرح اٹلی، سپین، جاپان، انڈیا اور اس کے علاوہ اور بہت سارے ممالک اس پروجیکٹ پر بہت زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ پاکستان میں بہت سارے ایسے علاقے بشمول پنجاب کہ ایسے ہیں کہ جہاں تقریباً سارا سال دھوپ رہتی ہے۔ ان علاقوں میں اگر سولر پینلز لگائے جائیں تو یہ ہمیں ایک پائیدار معاشی ترقی کی جانب لے کے جا سکتے ہیں اس سیکٹر میں توجہ دینے اور سرمایہ کاری کرنے سے ہم انرجی بحران پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ دوسرے مہنگے ذرائع سے حاصل کی جانے والی انرجی پر اپنا انحصار کافی حد تک کم یا پھر ختم کر سکتے ہیں۔