سوہنی اور کچا گھڑا

image

دی ویووز نیٹ ورک: سیاسی سوہنی، میاں نواز شریف کی اپنے مہینوال یعنی اقتدار سے ملنے سیاست کے دریائے چناب یعنی الیکشن کو عبور کرنے کیلئے وطن واپسی ہو چکی، ہمیشہ کی طرح میاں محمد نواز شریف دریائے چناب کو پار کرنے کیلئے گھڑے (اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل) کا استعمال کر رہے ہیں۔ سوہنی کا گھڑا اس کو مکمل طور پر سہولیات فراہم کر رہا ہے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک مجرم جو کہ اشتہاری قرار دے دیا گیا تھا، وہ وطن واپس آئے تو پاکستان کا انگلینڈ میں موجود سفیر اس کو ہیتھرو ائیرپورٹ پر خدا حافظ کہنے کیلئے جاتا ہے، اس سزا یافتہ شخص کو ملک میں داخل ہونے سے پہلے ضمانت دے دی جاتی ہے، اس کی جگہ عطاء تارڑ بائیو میٹرک تصدیق کر دیتے ہیں، جب میاں صاحب ائیرپورٹ پر اترتے ہیں تو عدالت ان سے بائیو میٹرک لینے خود ائیرپورٹ پہنچ جاتی ہے، جب سوہنی بھی پوری طرح اپنے مہینوال کو پانے کیلئے بیتاب ہے، گھڑا بھی اس کے پاس ہے تو اب کوئی شک نہیں کہ یہ ملاپ ہونے کو ہے۔

میاں صاحب پوری قوت سے یہ گیت گائے جا رہے ہیں "مینوں پار لنگا دے گھڑیا منتاں میں تیریاں کردی" اب دیکھنا یہ ہے کہ مٹی کا گھڑا ان کو دریا پار کروانے میں کتنا مضبوط رہتا ہے، مگر یہاں ڈر ہے تو اس بات کا کہ کہیں سوہنی کی بھابھی اپنا کردار ادا نہ کردے۔ سوہنی مہینوال پنجاب کی ایک لوک داستان ہے، جس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ مغلیہ سلطنت کے ورثاء کے خاندان سے تعلق رکھنے والے مرزا عزت بیگ جس نے بعد ازاں "مہینوال" کے نام سے شہرت پائی، شکار کھیلنے کیلئے دہلی سے گجرات آیا جہاں اس نے دریائے چناب کے کنارے جنگل میں پڑاؤ کیا۔ مرزا عزت بیگ یعنی مہینوال اشیائے ضرورت کی خرید و فرخت کیلئے گجرات شہر گیا، جہاں اس نے کمہار کی بیٹی "سوہنی" کو دیکھا اور اس پر فدا ہو گیا۔مرزا عزت بیگ یعنی مہینوال کو اپنی شاہانہ زندگی چھوڑ کر سوہنی کے باپ کی بھینسیں چرانا پڑ گئیں، مہینوال گجرات سے دریا پار کرکے دوسری جانب جنگل بیلے میں رہتا تھا اور سوہنی گھر والوں سے چوری گھڑے پر سوار ہو کر دریا عبور کرتی اور اپنے مہینوال سے ملنے جایا کرتی تھی۔ ایک رات سوہنی اپنے مہینوال سے ملنے روز کی طرح جانے والی تھی کہ اس سے قبل اس کی بھابھی نے پکا گھڑا اٹھایا اور اس کی جگہ کچا گھڑا رکھ دیا، جس کی وجہ سے سوہنی دریا برد ہوگئی جس کے پیچھے مہینوال نے بھی دریا میں چھلانگ لگا دی اور دونوں اس دنیا سے کوچ کرگئے۔ اس سوہنی کے ساتھ جب بھابھی نے ہاتھ کردیا تو مہینوال نے اس کے پیچھے دریا میں چھلانگ لگا دی، کیا میاں صاحب کے ساتھ اگر کوئی بھابھی ہاتھ کر جاتی ہے تو ان کا مہینوال (اقتدار) بھی وفا کرے گا؟

ماضی قریب میں جب چئیرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کی حکومت ختم کی گئی تو عوام نے ان کو سر آنکھوں پر بٹھایا بلکہ تاحال اس کے اثرات بالکل اسی طرح ہیں، شاید اس کی وجہ سائفر اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ ہے مگر نواز شریف صاحب کے پاس مضبوط بیانیہ ہونے کے باوجود بھی عوام نے ان کو اس درجے کا آسرا نہیں دیا، آج تو ایک پکا گھڑا ہے میاں صاحب کے پاس مگر کیا یہ گھڑا ہمیشہ کیلئے ہے؟ میاں صاحب کے استقبالیہ جلسے میں کبوتر کا ان کے پاس آنا اور مریم نواز کا ان کو فلسطین کا جھنڈا دے کر یہ کہنا کہ ان کے ایمبیسیڈر نے کہا ہے کہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ ایک مضبوط گھڑے کی علامت ہے، مگر بار بار کی دھوکہ دہی سے دونوں فریقوں میں عدم اعتماد کا ماحول ہے، دیکھیں اب کون پہلے اپنی روایت کو دہراتا ہے۔

واضح رہے کہ گھڑا دینے والوں نے تو ایک پکا اور مضبوط گھڑا ان کے حوالے کیا ہے مگر میاں صاحب کی وہ بھابھی جو رقابت کا کردار ادا کرتی ہے وہ کوئی اور نہیں بلکہ ان کا اپنا اور اپنی بیٹی مریم نواز کا مزاج ہے۔ میاں صاحب اب تو بھیگی بلی بن کر وقت گزاری کے فارمولے پر عمل کر رہے ہیں مگر جیسے ان کو احساس ہوا کہ وہ اب آزاد ہیں یا ان کے پاس طاقت ہے تو وہ فوراً اسٹیبلشمنٹ پر وار کرنے سے باز نہیں آئیں گے، بس یہی رویہ سوہنی کی بھابھی کی طرح پکے کی جگہ کچا گھڑا رکھ دے گا۔ میری ناقص سوچ کے مطابق میاں صاحب کے کیسز تو شاید ختم ہو جائیں گے مگر وہ اپنے بیانیے کے چکر میں مارے جائیں گے کیونکہ اب وقت تبدیلی کا ہے، اس متعصبانہ اور ناانصافی کے نظام نے 100 سال کا عرصہ گزار لیا ہے، اب حقیقت میں تبدیلی آ رہی ہے چاہے میاں صاحب کے ہاتھوں سے آئے یا کسی اور کے ہاتھ سے آئے مگر قدرت کی نشانیاں اس بار کچھ اور ہی اشارے دے رہی ہیں۔