بھارت کے سب سے بڑے امتحانی سکینڈل کی ہوشربا تفصیلات منظر عام پر آ گئیں

image


نئی دہلی: (ویب ڈیسک) بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک شکایت نے بھارت کے سب سے بڑے امتحانی اسکینڈل کا پردہ چاک کر دیا، جس کے بعد پورا نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا۔ جے پور سے ناسک، گروگرام اور سکر تک ایک منظم مافیا نے امتحانی پرچہ مختلف ہاتھوں سے گزارتے ہوئے پورے بھارت میں پھیلا دیا۔ واٹس ایپ گروپ "کے اے فور ہنڈرڈ" کے ذریعے لاکھوں روپے کے عوض پرچے فروخت کیے گئے اور محنت کرنے والے طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا دیا گیا۔

لیک ہونے والا پرچہ راجستھان سے کیرالا تک پہنچا، جہاں اسے فوٹو کاپیوں کی صورت میں امیدواروں کو فروخت کیا گیا۔ جب امتحان منعقد ہوا تو بائیولوجی کے تقریباً 90 فیصد اور کیمسٹری کے 45 فیصد سوالات مبینہ طور پر لیک شدہ پرچے سے مطابقت رکھتے تھے۔ اسی انکشاف نے اس پورے اسکینڈل کو قومی سطح پر ایک بڑے تنازعے میں تبدیل کر دیا۔

کیرالا کے ایک امیدوار نے پہلے پولیس اور پھر نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کو شکایت بھیجی، جس کے بعد تحقیقات مختلف اداروں تک پہنچیں اور معاملہ منظرِ عام پر آ گیا۔ بھارت میں میڈیکل، انجینئرنگ، ایوی ایشن اور دیگر اہم شعبوں میں داخلے کے لیے یہ امتحان انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، جس میں لاکھوں امیدوار شرکت کرتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق اس مبینہ اسکینڈل نے امتحانی نظام کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کیے اور ملک بھر میں احتجاج اور اصلاحات کے مطالبات کو جنم دیا۔