"ڈی ڈبلیو" کی دستاویزی فلم میں جان بوجھ کر پاکستانی نیوکلیئر پروگرام پر غلط فہمی پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے: ترجمان دفتر خارجہ
اسلام آباد: (نیوز ڈیسک) پاکستان کی جانب سے جرمن نشریاتی ادارے 'ڈی ڈبلیو' کی پاکستانی ایٹمی پروگرام پر بنائی گئی دستاویزی فلم کو سخت الفاظ میں مسترد کر دیا گیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے اس دستاویزی فلم پر شدید تحفظات ظاہر کرتے ہوئے اسے سراسر گمراہ کن اور جانبدارانہ قرار دے دیا ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے اس معاملے پر کہا ہے کہ اس فلم کے ذریعے جان بوجھ کر پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں عالمی سطح پر غلط فہمیاں پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ یہ فلم کسی ٹھوس حقیقت کے بجائے پرانے اور گھسے پٹے بیانیے، قیاس آرائیوں اور یکطرفہ و جانبدار ذرائع پر مبنی ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کا نیوکلیئر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم انتہائی محفوظ اور مکمل طور پر بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے۔ پاکستان کو اپنے جامع اور مضبوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم پر پورا اعتماد ہے اور اس کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستانی دفترِ خارجہ نے جرمن میڈیا ہاؤس کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ 'ڈی ڈبلیو' کو سنسنی خیزی کے بجائے بنیادی صحافتی اقدار اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے اصولوں پر عمل کرنا چاہیئے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب افغانستان کیلئے سابق امریکی نمائندے خلیل زاد نے ایکس پر دعویٰ کیا تھا کہ اس دستاویزی فلم میں پاکستان کے سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران، بڑھتی ہوئی شدت پسندی اور سول ملٹری تعلقات کا جائزہ لیتے ہوئے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ حالات پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ دفتر خارجہ نے بھارتی حکومت کی پاکستانی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی عائد کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مودی حکومت کے انتہا پسندانہ رویے اور عدم برداشت کا واضح مظہر قرار دے دیا ہے۔