دہشت گردوں کے خلاف اب کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی: ڈی جی آئی ایس پی آر
راولپنڈی: (نیوز ڈیسک) پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ ملک بھر میں سیکیورٹی فورسز نے اب تک 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے ہیں۔ جن میں بلوچستان میں 31 ہزار سے زائد، خیبرپختونخوا میں 7 ہزار سے زائد اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں 2 ہزار 91 آپریشنز کیے گئے ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 2 ہزار 84 دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف اب کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی، انہیں ہتھیار ڈالنے ہوں گے یا انہیں ختم کر دیا جائے گا۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کو سپورٹ کر رہے ہیں اور دہشت گردی کو بطور کاروبار استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج میں کوئی فرق نہیں ہے، ان کے مائی باپ آر ایس ایس اور ہیبت اللہ والے ہیں جبکہ بھارت اور افغانستان کا مشترکہ ایجنڈا صرف دہشت گردی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ لاپتہ افراد کا پروپیگنڈا اب ناکام ہو چکا ہے۔ حکومت کے انکوائری کمیشن کے پاس مجموعی طور پر 10 ہزار 900 درخواستیں آئیں، جن میں سے 9 ہزار 372 کیسز حل کیے جا چکے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ "ہارڈ اسٹیٹ" کا مطلب وہ ریاست ہے جہاں تمام معاملات بغیر کسی تفریق کے آئین اور قانون کے مطابق چلائے جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حقوق کی بات کرنے سے پہلے شہریوں کو اپنے فرائض اور حدود سے آگاہ ہونا چاہیے، کیونکہ ریاست ہے تو سیاست ہے، اور پاکستان ہی ہماری پہلی اور آخری پہچان ہے۔