کاکروچ پارٹی کے سربراہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں

image


نئی دہلی: (ویب ڈیسک) بھارتی میڈیا کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں بی جے پی میں شمولیت کے لیے مسلسل دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ اورنگ آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنتر منتر احتجاج کے دوران انہیں فون پر جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی موصول ہوئیں۔ ان کے بقول انہیں کہا گیا کہ احتجاج ختم کرکے بی جے پی میں شامل ہو جاؤ، ورنہ سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

ابھیجیت دیپکے نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہی بی جے پی اور آر ایس ایس کی "محبت کی زبان" ہے، جس میں اختلاف کرنے والوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی دباؤ یا پیش کش کے باوجود وہ بی جے پی میں شامل نہیں ہوں گے۔

ملکی سیاست میں مستقبل کے کردار سے متعلق سوال پر ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ کسی ایک شخصیت کو آئین سے بالاتر سمجھنا جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے۔ ان کے مطابق ملک کی بہتری اسی صورت ممکن ہے جب عوام متحد ہو کر آئینی اور جمہوری اصولوں کی حمایت کریں۔ ان کے ان بیانات پر تاحال بی جے پی کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔