پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا نیا دفاعی اتحاد خطے میں توازن کی علامت ہے٬ ایف پی آئی ایف
نیویارک: (ویب ڈیسک) امریکی جریدے ایف پی آئی ایف کی رپورٹ میں کہا گیا کہ سعودی مالی قوت، ترکیہ کی دفاعی ٹیکنالوجی اور پاکستان کا جنگی تجربہ اس اتحاد کی بنیاد ہیں۔ ایف پی آئی ایف نے اسے مشرق وسطی کی بدلتی سیاست میں علاقائی طاقتوں کے بڑھتے کردار کی عکاسی قرار دیا۔ امریکی صدر کی حمایت کو جریدے نے پاکستان کے واشنگٹن میں موجود سفارتی وزن کی علامت کہا گیا ہے۔
تینوں ممالک نے طے کیا ہے کہ کسی ایک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا۔ معاہدے کا مقصد علاقائی استحکام کو یقینی بنانا اور پراکسی خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔ ایف پی آئی ایف نے واضح کیا کہ یہ اتحاد کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں، بلکہ ردعمل کی بنیاد پر بنایا گیا دفاعی فریم ورک ہے۔
پاکستان کو معاہدے میں ثالثی اور سفارتی توازن قائم رکھنے والا ملک قرار دیا گیا۔ ایف پی آئی ایف کے مطابق یمن میں حوثی حملے اور بحیرہ احمر میں عدم استحکام نے نئے دفاعی انتظامات کو ناگزیر بنا دیا ہے۔ جریدے نے کہا کہ معاہدہ سخت بلاک کے بجائے شمولیتی ماڈل ہے اور دیگر ممالک کے لیے بھی دروازے کھلے ہیں۔ اس رائیل میں بعض حلقوں نے اس پیش رفت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔