ابو الظہور ایئربیس پر اس۔رائ۔یل۔ی حملے کے بعد شام کا بڑا سفارتی فیصلہ

image

دمشق: (ویب ڈیسک) شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے کہا ہے کہ ابو الظہور ملٹری ایئربیس پر ا۔سر۔ائ۔یلی حملے کے بعد دمشق نے اس۔رائ۔یل سے رابطے معطل کر دیئے ہیں، کیونکہ موجودہ صورتحال میں اس۔رائ یل پر اعتماد کرنا ممکن نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام کی فوری ترجیح ا۔س۔رائ۔یلی حملوں کا خاتمہ ہے، جبکہ مستقبل میں معاملات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی خواہش برقرار ہے۔ شامی وزیر خارجہ کے مطابق ا۔س۔را۔ئی۔ل کی جانب سے سکیورٹی معاہدے پر پیش رفت کیلئے سنجیدہ آمادگی دکھائی نہیں دی، حالانکہ سکیورٹی سے متعلق متعدد امور پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا تھا۔

پانچ روز قبل اس۔رائی۔ل۔ی جنگی طیاروں نے شمال مغربی شام میں واقع ابو الظہور فوجی اڈے کو نشانہ بنایا تھا، جس میں رن وے اور بعض ذخیرہ کرنے والی تنصیبات کو نقصان پہنچا تھا۔ دوسری جانب دمشق کے جنوب مغربی علاقے میں واقع بیت جن کے مضافات میں ایک گاڑی کو اس۔رائ۔یلی ڈرون سے نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اس۔رائی۔لی فوج نے مؤقف اختیار کیا کہ کارروائی میں ایسے شخص کو ہدف بنایا گیا جو اسر۔ائی۔لی فوج کے خلاف ممکنہ حملے کی تیاری کے آخری مرحلے میں تھا اور اس کی سرگرمیاں فوری خطرہ بن چکی تھیں۔

شامی وزارت خارجہ نے ڈرون حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دمشق نے اس۔رائی۔ل کو ان کارروائیوں کے ممکنہ نتائج کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے عملی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی دوران شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے۔