کراچی میں بڑی کارروائی، بین الاقوامی منشیات نیٹ ورک کے 8 ملزمان گرفتار، 90 کروڑ کی آئس برآمد

image


کراچی: (نیوز ڈیسک) ٹاسک فورس کراچی اور وفاقی سول حساس ادارے نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بین الاقوامی منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک کے 8 ملزمان کو گرفتار کرلیا، جن کے قبضے سے 50 کلو سے زائد آئس (کرسٹل میتھمفیٹامائن) اور 2 پستول برآمد ہوئے۔ گرفتار ملزمان میں ایک پولیس کانسٹیبل، دو افغان شہری، ایک ڈاکٹر اور فارماسیوٹیکل کمپنی کا سابق ملازم شامل ہیں۔ کارروائی تھانہ کورنگی انڈسٹریل ایریا کی حدود میں خفیہ اطلاع پر کی گئی، جہاں تفتیش کے دوران منظم بین الاقوامی نیٹ ورک کا انکشاف ہوا جو آئس اور کیٹامین مختلف کھیپوں کی صورت میں اسمگل کرنے میں ملوث تھا۔

حکام کے مطابق گرفتار ملزمان میں نذیر سومرو مبینہ ماسٹر مائنڈ، شاہد مستوئی گودام کے انتظامات، شیخ خالد منشیات رکھنے کی جگہ اور مقامی لین دین کے لیے بینک اکاؤنٹ فراہم کرنے، جبکہ نور خان اور گران خان بلوچستان سے آئس کی سپلائی یقینی بنانے میں ملوث تھے۔ ناصر علی منشیات کی ترسیل میں سہولت کاری کرتا تھا۔ مزید تفتیش کے دوران 10 کلو آئس کا نمونہ فراہم کرنے والے پولیس کانسٹیبل محمد کامران اور عبداللہ عرف عارف کو بھی گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق شاہ جی اور وقار حسین مفرور ہیں، جبکہ گرفتار ملزمان کے خلاف تھانہ ایس آئی یو میں مقدمات درج کرکے قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ گرفتار گروہ بین الاقوامی سطح پر منشیات اسمگل کرتا تھا اور پاکستان سے آئس فلپائن اور ملائیشیا بھیجی جاتی تھی۔ ملزمان ٹائلز کی آڑ میں منشیات اسمگل کرتے اور سمندری راستے استعمال کرتے تھے، جبکہ بیرون ملک دوروں کے دوران منشیات نیٹ ورکس سے رابطے بھی کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ برآمد کی گئی منشیات کی مالیت 80 سے 90 کروڑ روپے کے درمیان ہے اور ملزمان مبینہ طور پر آئس لیبارٹری میں تیار کرتے تھے۔ ڈی آئی جی کے مطابق مفرور ملزمان کی گرفتاری اور نیٹ ورک کے دیگر سہولت کاروں تک پہنچنے کے لیے مختلف مقامات پر چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔