والدین بننے کا تجربہ دماغی صحت کے لیے مفید قرار
واشنگٹن: (ویب ڈیسک) والدین بننے کا تجربہ زندگی کے معمولات اور جذبات میں تبدیلی کے ساتھ دماغی صحت پر بھی طویل مدتی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ حالیہ تحقیق کے مطابق حمل کے ابتدائی مراحل ہی سے خواتین کے دماغ میں نمایاں تبدیلیاں شروع ہو سکتی ہیں، جبکہ والد بننے والے افراد میں بھی بچوں کی دیکھ بھال سے مطابقت رکھنے والی دماغی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق والدین بننے کے دوران دماغ کے بعض حصوں میں گرے میٹر کی کثافت میں تبدیلی آ سکتی ہے، تاہم اسے لازماً ذہنی کارکردگی میں کمی نہیں سمجھا جاتا۔ یہ تبدیلیاں اعصابی رابطوں کی ازسرنو تنظیم کا حصہ ہو سکتی ہیں، جس کے ذریعے دماغ بچوں کی ضروریات، توجہ، ہمدردی اور فوری ردعمل سے متعلق نئی ذمہ داریوں کے مطابق خود کو ڈھالتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی مشاہدہ کیا گیا کہ جن افراد کے بچے تھے، ان کے دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان رابطے نسبتاً مضبوط پائے گئے۔ بچوں کی سرگرمیوں کیH منصوبہ بندی، متعدد ذمہ داریاں سنبھالنا، روزمرہ کی تفصیلات یاد رکھنا اور جذباتی معاملات سے نمٹنا دماغ کو مسلسل مصروف رکھ سکتا ہے۔ تاہم محققین واضح کرتے ہیں کہ اس تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بچے ہونا ہی بہتر دماغی صحت کی براہ راست وجہ ہے، کیونکہ طرزِ زندگی، جسمانی سرگرمی، سماجی تعاون اور مجموعی صحت بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔