امریکی اڈوں کی سلامتی پر سوالات
تہران: (ویب ڈیسک) ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے اردن کے موافق سلطی ایئربیس سے اپنے ہیلی کاپٹرز کی منتقلی شروع کر دی ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق منتقل کیے جانے والے ہیلی کاپٹرز میں وہ طیارے بھی شامل ہیں جو منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایران کی جوابی کارروائی میں مبینہ طور پر تباہ ہوئے تھے۔ واضح رہے کہ ایران نے گزشتہ روز اردن میں واقع امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
دوسری جانب سابق سی آئی اے ڈائریکٹر اور ریٹائرڈ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے اعتراف کیا ہے کہ مشرقی خلیجی ریاستوں میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو برقرار رکھنا اب ماضی کی طرح قابلِ عمل نہیں رہا۔ گلوبل گمبٹ کو انٹرویو میں پیٹریاس نے کہا کہ امریکا کے پاس جدید ٹیکنالوجی تو موجود ہے، لیکن جنگیں جیتنے کیلئے مؤثر حکمتِ عملی کا فقدان ہے اور پینٹاگون اپنی تکنیکی برتری سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکا۔ ان کے مطابق سستے ڈرونز انتہائی مہنگے فوجی اثاثوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کیلئے بڑھتا ہوا خطرہ بن چکے ہیں، جس کے باعث خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے روایتی طریقۂ کار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
افغانستان میں امریکی افواج کے سابق کمانڈر رہنے والے پیٹریاس نے 2021ء میں افغانستان سے امریکی انخلاء پر بھی تنقید کی تھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ امریکا کیلئے اس وقت افغانستان چھوڑنا ضروری نہیں تھا اور ان کے خیال میں واشنگٹن کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ تازہ بیان میں خلیجی اڈوں کی سلامتی اور ڈرونز کے بڑھتے خطرے سے متعلق ان کے خدشات خطے میں امریکی فوجی حکمتِ عملی کو درپیش نئے چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہیں۔