نادرا نے بڑی شرط عائد کر دی

image


کراچی: (نیوز ڈیسک) نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اگر آپ کے بچے کا نادرا میں نیا تصویر والا ب فارم نہیں بنا ہوا تو مستقبل میں اہم مسئلہ درپیش ہو سکتا ہے۔ نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے پاکستانی بچوں کیلئے تصویر والے ب فارم کے اجراء کا نظام متعارف کرایا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بچوں کا شناختی ریکارڈ مزید مکمل اور محفوظ بنانا ہے۔

نادرا کے مطابق پیدائش سے 18 سال تک کی عمر کے بچوں کیلئے تصویر والے ب فارم کو 3 مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پیدائش سے 3 سال تک کے بچوں کیلئے پہلا، 3 سے 10 سال تک کے بچوں کیلئے دوسرا جبکہ 10 سے 18 سال تک کی عمر کے بچوں کیلئے تیسرا تصویر والا ب فارم مقرر کیا گیا ہے۔ نئے ب فارم میں بچے کی تصویر اور عمر کے مخصوص مرحلے پر فنگر پرنٹس بھی نادرا کے ریکارڈ کا حصہ بنائے جاتے ہیں۔

نادرا کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اگر بچے کا نیا تصویر اور فنگر پرنٹس والا ب فارم نہیں بنا تو نادرا کے ریکارڈ میں اس کی تصویر اور فنگر پرنٹس موجود نہیں ہوں گے۔ ایسے بچے کا پہلی مرتبہ شناختی کارڈ نادرا سینٹر سے ہی جاری ہوگا۔ والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ بچے کے پہلے شناختی کارڈ کے لیے قریبی نادرا سینٹر سے رجوع کریں۔