وفاقی پنشنرز کے لیے نیا ڈیجیٹل نظام نافذ، بینکوں کا بائیومیٹرک تصدیق میں کردار ختم
اسلام آباد: (نیوز ڈیسک) وزارت خزانہ کے 7 ستمبر 2026ء کے نظرثانی شدہ ایس او پی کے مطابق وفاقی حکومت کے ریٹائرڈ سول سرونٹس اور وفاقی پنشن قواعد کے تحت پنشن لینے والے افراد زندگی کی تصدیق نادرا کے ڈیجیٹل نظام کے ذریعے کرائیں گے۔ نادرا سے ڈیجیٹل لائف سگنل براہ راست سی جی اے اور ایم اے جی کو منتقل ہوگا، جبکہ کمرشل بینک صرف پنشن کی ادائیگی کے ادارے کے طور پر کام کریں گے اور معمول کی صورت میں لائف سرٹیفکیٹ یا بائیومیٹرک ڈیٹا وصول، محفوظ یا تصدیق نہیں کرسکیں گے۔
نئے طریقہ کار کے تحت پنشنرز پاک آئی ڈی موبائل ایپ، نادرا رجسٹریشن سینٹرز، موبائل یونٹس، ای سہولت فرنچائزز یا ایسے مجاز بینک مراکز سے پروف آف لائف حاصل کرسکیں گے جو نادرا کے مقررہ مراکز کے طور پر کام کریں گے۔ زندگی کی تصدیق ہر 180 دن میں کم از کم ایک مرتبہ لازمی ہوگی اور مارچ و ستمبر میں مقررہ تصدیق کا سابقہ نظام ختم کردیا گیا ہے، جبکہ 22 اگست 2026 کے بعد پنشن اکاؤنٹس کو بینکوں کی جانب سے ڈارمنٹ قرار نہیں دیا جائے گا۔
اگر مسلسل چھ ماہ تک درست ڈیجیٹل لائف سگنل موصول نہ ہو تو اکاؤنٹ کو سی جی اے یا ایم اے جی کے مرکزی لیجر میں سسپنس اسٹیٹس میں منتقل کیا جائے گا، تاہم اسے ڈارمنٹ نہیں کیا جائے گا اور درست سگنل ملتے ہی اکاؤنٹ خودکار طور پر بحال کرکے بقایا پنشن جاری کردی جائے گی۔ انتہائی ضعیف العمر، طبی مسائل یا ڈیجیٹل سہولت استعمال نہ کرسکنے والے پنشنرز ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس یا پنشن سہولت مرکز سے فارم 10 اور فارم 12 کے ذریعے دستی کارروائی کراسکیں گے، جبکہ کاغذی ڈسبرسرز ہاف کا نظام بھی ختم کردیا گیا ہے۔