بھارت کی اسٹاک مارکیٹ سے 25 ارب ڈالر کا انخلاء
نئی دہلی: (ویب ڈیسک) عالمی سرمایہ کاروں نے بھارت کی اسٹاک مارکیٹ سے تقریباً 25 ارب ڈالر نکال لیے ہیں، جس کے بعد بھارتی مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو شدید دھچکا لگا ہے۔ عالمی معاشی جریدے بلوم برگ کے مطابق کبھی ایشیا کی پرکشش سرمایہ کاری منڈی سمجھے جانے والا بھارت اب عالمی سرمایہ کاروں کی ترجیحات میں نمایاں طور پر پیچھے چلا گیا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی کے باعث بھارتی اسٹاکس میں بیرونی سرمایہ کاروں کی ملکیت تقریباً 17 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
سرمایہ کے بڑے پیمانے پر انخلاء نے بھارتی مالیاتی منڈی کے ساتھ ساتھ ملکی کرنسی کو بھی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ بھارتی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مسلسل کمزور ہو رہا ہے اور اس کی قدر نئی ریکارڈ کم ترین سطحوں تک پہنچ چکی ہے۔ ایشیائی کرنسیوں میں بھی بھارتی روپیہ اس وقت بدترین کارکردگی دکھانے والی کرنسیوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جس نے بھارتی مالیاتی حلقوں میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ماہرین کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد کسی بھی بڑی معیشت کی اسٹاک مارکیٹ کیلئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے اتنے بڑے پیمانے پر سرمایہ کا انخلاء بھارت کیلئے ایک اہم مالیاتی چیلنج بن سکتا ہے۔ سرمایہ کاری میں کمی اور روپے کی گرتی قدر ایک دوسرے پر اثر انداز ہو کر بھارتی معیشت اور مالیاتی منڈی پر مزید دباؤ پیدا کر سکتی ہے۔ یوں تیزی سے ترقی کرتی ہوئی بھارتی معیشت کے بارے میں عالمی سرمایہ کاروں کا موجودہ محتاط رویہ نئی دہلی کیلئے ایک سنجیدہ معاشی اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔