بھارت کا سائنسی ادارہ اسرو بحران کا شکار، مودی حکومت کی خلائی پالیسی پر سوالات
نئی دہلی: (ویب ڈیسک) بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کا معروف خلائی ادارہ اسرو (آئی ایس آر او) حکومتی خلائی پالیسیوں اور نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شمولیت کے باعث نئے چیلنجز سے دوچار ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران 120 سے زائد سائنسدان اسرو چھوڑ چکے ہیں، جن میں چندریان-3، ایل وی ایم-3 اور اسپَیڈیکس جیسے اہم منصوبوں سے وابستہ سینئر ماہرین بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق نجی کمپنیوں کی جانب سے زیادہ پرکشش مراعات اور تنخواہوں کے باعث سرکاری خلائی ادارے کیلئے ماہر افرادی قوت کو برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
بی بی سی کے مطابق 2020ء کی بھارتی خلائی پالیسی کے بعد ملک میں نجی خلائی کمپنیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا اور اسرو کی متعدد ٹیکنالوجیز نجی شعبے کو منتقل کی گئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرو کی بعض نمائندہ تنظیموں نے خلائی آپریشنز کو نجی کمپنیوں کے حوالے کرنے اور سائنسدانوں کے بڑھتے ہوئے انخلاء پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سابق اسرو چیئرمین مادھون نائر سمیت بعض ماہرین نے بھی موجودہ پالیسیوں کے تحت سائنسدانوں کو حاصل مراعات اور ادارے کی سابقہ حیثیت میں آنے والی تبدیلیوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نجی کمپنی اسکائی روٹ کے راکٹ کے ذریعے سیٹلائٹ لانچ کیے جانے سے بھارتی خلائی شعبے میں اسرو کی روایتی اجارہ داری کو بڑا چیلنج درپیش ہے۔ بھارتی خلائی پالیسی کے تحت حکومت نجی شعبے کو عالمی خلائی مارکیٹ میں نمایاں حصہ دلانے کی خواہاں ہے، جبکہ اسرو کو زیادہ تر بڑے سائنسی اور قومی خلائی مشنز پر توجہ دینے کی سمت لے جایا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق نجی شعبے کی شمولیت سے خلائی صنعت میں سرمایہ کاری اور مسابقت بڑھ سکتی ہے، تاہم باصلاحیت سائنسدانوں کا سرکاری ادارے سے مسلسل انخلاء اسرو کی طویل مدتی صلاحیت کیلئے ایک اہم سوال بن چکا ہے۔