پاکستان میں مریضوں کو ضرورت سے زیادہ ادویات دیے جانے کا انکشاف
اسلام آباد: (ویب ڈیسک) ہیلتھ سروسز اکیڈمی اسلام آباد کے ماہرین کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں مریضوں کو ضرورت سے زیادہ ادویات تجویز کیے جانے کا رجحان پایا گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق ایک ہی نسخے پر اوسطاً 4 سے 5 مختلف ادویات درج کی جاتی ہیں، جس سے علاج کے اخراجات میں اضافے کے ساتھ مریضوں کی صحت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 25 فیصد ادویات ہی جنیرک یا اصل نام سے تجویز کی جاتی ہیں، جبکہ عالمی ادارۂ صحت ادویات کو جنیرک نام سے تجویز کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تاکہ مریضوں کو نسبتاً کم قیمت پر معیاری دوا دستیاب ہو سکے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں تجویز کیے جانے والے نسخوں میں تقریباً 45 فیصد میں اینٹی بائیوٹکس شامل ہوتی ہیں، جو عالمی معیار کے مقابلے میں زیادہ شرح ہے۔ ماہرین کے مطابق اینٹی بائیوٹکس کے غیر ضروری استعمال سے اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بعض ادویات مستقبل میں انفیکشن کے خلاف کم مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔