خلا میں تعنیات امریکی خفیہ ہتھیار

image


واشنگٹن: (ٹیکنالوجی ڈیسک) امریکا نے پہلی بار باضابطہ طور پر اعتراف کر لیا ہے کہ اس نے زمین کے مدار میں "اسپیس کنٹرول ویپنز" یعنی خلائی کنٹرول کے ہتھیار نصب کیے ہیں۔ یہ انکشاف امریکی فضائیہ کے سیکریٹری ٹرائے مینک نے ایک کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا خلا میں بڑھتے ہوئے خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ ہتھیار کس قسم کے ہیں، کتنے ہیں اور کیسے کام کرتے ہیں۔

امریکی اسپیس فورس کا کہنا ہے کہ ان ہتھیاروں کا مقصد خلا میں مخالف ملکوں کی صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے۔ آج کل دنیا کی فوجیں سیٹلائٹس پر بہت انحصار کرتی ہیں کیونکہ یہ رابطے، نگرانی اور نیوی گیشن کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ نظام دشمن کے سیٹلائٹ کو جام کر سکتے ہیں، کمزور کر سکتے ہیں یا ضرورت پڑنے پر تباہ بھی کر سکتے ہیں۔ اسی لیے خلا اب صرف سائنس کا نہیں بلکہ فوجی میدان بھی بن چکا ہے۔

یہ اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکا، روس اور چین کے درمیان خلا میں فوجی طاقت بڑھانے کی دوڑ چل رہی ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ چین اور روس ایسی ٹیکنالوجی بنا رہے ہیں جو امریکی سیٹلائٹس کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اسی جواب میں امریکا نے بھی 2019ء میں "اسپیس فورس" بنائی تھی تاکہ اپنے خلائی اثاثوں کا دفاع کر سکے۔ واضح رہے کہ 1967ء کے ایک عالمی معاہدے کے تحت خلا میں ایٹمی ہتھیار رکھنا منع ہے، لیکن عام یا اینٹی سیٹلائٹ ہتھیاروں پر مکمل پابندی نہیں ہے۔ امریکا کے اس اعتراف سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب زمین، سمندر اور فضا کے بعد جنگ کا میدان خلا تک بھی پہنچ گیا ہے۔