گردوں کی بیماری کا مطلب ڈائیلاسز نہیں ہوتا
واشنگٹن: (ویب ڈیسک) گردوں کی بیماری کا نام سنتے ہی اکثر افراد ڈائیلاسز کو ذہن میں رکھتے ہیں، تاہم ہر مریض کیلئے ڈائیلاسز ضروری نہیں ہوتا۔ دائمی گردوں کی بیماری مختلف مراحل میں ہوتی ہے اور ابتدائی مرحلے میں گردے اپنا کام کافی حد تک انجام دیتے رہتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بیماری کی بروقت تشخیص، مناسب خوراک، ادویات، جسمانی سرگرمی اور باقاعدہ طبی معائنے سے گردوں کی کارکردگی کو برقرار رکھنے اور بیماری کی رفتار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ خاص طور پر شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کیلئے خون اور پیشاب کے باقاعدہ ٹیسٹ اہم ہیں۔
گردوں کی بیماری کا اثر صرف پیشاب کے نظام تک محدود نہیں رہتا بلکہ بلڈ پریشر، خون کے سرخ خلیوں اور جسم میں کیلشیم، پوٹاشیم اور فاسفورس کے توازن کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دائمی گردوں کی بیماری اور اچانک گردوں کی خرابی الگ حالتیں ہیں، جبکہ بعض صورتوں میں ایکیوٹ کڈنی انجری کی وجہ بروقت معلوم کرکے علاج کیا جائے تو گردوں کی کارکردگی دوبارہ بہتر ہوسکتی ہے۔