انتہائی گرم چائے یا کافی پینے والوں کی غذائی نالی میں کینسر کا خطرہ بڑھنے کا امکان
لندن: (ویب ڈیسک) آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں کی نئی تحقیق میں انتہائی گرم چائے یا کافی پینے کے ممکنہ صحت کے خطرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس سے قبل ایشیاء، مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور جنوبی امریکہ میں ہونے والی مختلف تحقیقات میں بھی مشروبات کے درجہ حرارت اور غذائی نالی کے کینسر کے درمیان تعلق سامنے آ چکا ہے۔ نئی تحقیق نے برطانیہ کی آبادی میں بھی اس ممکنہ تعلق کی نشاندہی کی ہے۔
برطانیہ میں تقریباً 10 لاکھ افراد سے کیے گئے سروے میں تقریباً 15 فیصد افراد نے بتایا کہ وہ چائے یا کافی بہت گرم پسند کرتے ہیں۔ تحقیق کے لیے یو کے بایوبینک اور 50 سے 64 سال عمر کی خواتین پر ہونے والی ملین ویمن اسٹڈی کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے مشروبات کے درجہ حرارت اور بعد میں سامنے آنے والی بیماریوں کے درمیان تعلق کا تجزیہ کیا۔
تحقیق کے مطابق جو افراد چائے یا کافی بہت زیادہ گرم پینا پسند کرتے تھے، ان میں غذائی نالی کے اسکویمس سیل کارسینوما کی تشخیص کا امکان گرم مشروبات کم گرم پینے والوں کے مقابلے میں تقریباً 3 گنا زیادہ پایا گیا۔ حیران کن طور پر یہ تعلق اس بات سے قطع نظر سامنے آیا ہے کہ وہ افراد چائے یا کافی پیتے تھے۔ تاہم یہ نتائج مشروبات کے درجہء حرارت اور کینسر کے خطرے کے درمیان تعلق کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انہیں کسی ایک فرد کے لیے حتمی طبی پیش گوئی نہیں سمجھنا چاہیے۔