اے آئی کے میدان میں چین امریکہ کو ٹکر دینے کیلئے تیار

image


بیجنگ: (ٹیکنالوجی ڈیسک) چین اور امریکا کے درمیان مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی ٹیکنالوجی کا مقابلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ دنیا میں زیادہ تر اے آئی کام Nvidia کی چپس پر ہو رہا ہے، لیکن امریکہ نے چین کو یہ جدید چپس بیچنے پر پابندی لگا رکھی ہے تاکہ چین ترقی کے میدان میں اس سے آگے نا نکل جائے۔ اس پابندی سے چین کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس کے باوجود چین نے ہار نہیں مانی اور اپنی چپس بنانا شروع کر دیں۔

چینی کمپنی ہواوے نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی نئی اسینڈ  960 ڈی ٹی چِپ جلد لائے گی۔ پہلے یہ چپ 2027ء کے آخر میں آنی تھی، لیکن اب 2027ء کے شروع میں ہی آئے گی۔ ہواوے کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ہر سال نئی اور زیادہ طاقتور چپ لائے گی جس کی سپیڈ اور میموری بہتر ہوگی۔

پچھلے سال چینی کمپنی DeepSeek نے ثابت کیا تھا کہ صرف مہنگی چپ ہی سب کچھ نہیں، اچھا سافٹ ویئر بھی کمال کر سکتا ہے۔ اس نے پرانی چپس سے ہی طاقتور اے آئی ماڈل بنا دیا تھا، لیکن سچ یہ بھی ہے کہ اچھے سافٹ ویئر کو بھی چلنے کیلئے طاقتور چپ کی ضرورت ہوتی ہے، اسی لیے ہواوے کی یہ نئی چپ بہت اہم ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ہواوے کی چپ Nvidia کا مقابلہ کر سکے گی؟ اس کا پتہ چپ کے مارکیٹ میں آنے کے بعد ہی چلے گا۔ ہواوے کا کہنا ہے کہ اے آئی دنیا کی سب سے بڑی تبدیلی بنے گی، لیکن اس کا فائدہ تب ہی ہوگا جب سب مل کر کام کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی چین روبوٹ بنانے والی سمارٹ فیکٹریاں بھی لگا رہا ہے، یعنی وہ اے آئی کے ساتھ ساتھ روبوٹکس میں بھی آگے نکلنا چاہتا ہے۔