جنوبی کوریا کا ایران جنگ میں فوجی شرکت سے انکار
سیئول: (ویب ڈیسک) جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک ایران کے خلاف امریکی جنگ میں فوجی طور پر شامل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا ہے کہ جنوبی کوریا کی فوج کی ایسی کوئی تعیناتی نہیں کی جائے گی جس سے ملک براہِ راست جنگ کا حصہ بنے۔ صدر لی کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اتحادی ممالک سے ایران کے خلاف تعاون کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
صدر لی کے مطابق جنوبی کوریا جنگی کارروائی کیلئے کسی بھی قسم کے فوجی وسائل تعینات نہیں کرے گا۔ تاہم حکومت خطے میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کیلئے اپنے کردار میں اضافے کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارتی جہازوں، خام تیل کی ترسیل اور خطے میں موجود جنوبی کوریائی شہریوں کے تحفظ کیلئے ضروری اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
جنوبی کوریا پہلے ہی صومالیہ کے ساحل کے قریب بحری موجودگی رکھتا ہے جہاں اس کے فوجی قزاقی کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ صدر لی کے بیان سے واضح ہے کہ اس بحری موجودگی کو ایران کے خلاف براہِ راست جنگی کارروائی کیلئے استعمال کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ حکومت آبنائے ہرمز میں ممکنہ بحری کردار پر بھی غور کر رہی ہے جو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے۔