کیا اے آئی خطرناک صورت اختیار کر سکتی ہے؟
کیلیفورنیا: (ٹیکنالوجی ڈیسک) امریکا کی بڑی اے آئی کمپنیوں کے مالکان، جو آپس میں سخت حریف ہیں، اب ایک ہی بات پر متفق نظر آ رہے ہیں کہ اے آئی کی ترقی کو ذرا آہستہ اور احتیاط سے آگے بڑھانا چاہیئے۔ ماہرین کو ڈر ہے کہ مستقبل میں ایسی صورتحال اختیار کر سکتی ہے جو خود ہی اپنی ذہانت کو بہتر بنانے لگے اور پھر انسان اسے کنٹرول نہ کر سکیں۔ اس کو "ریکرسو سیلف امپروومنٹ" یعنی بار بار خود کو بہتر بنانا کہا جا رہا ہے۔
اگر اے آئی واقعی خود کو بہتر بنانے لگی تو ترقی کی رفتار بہت تیز ہو جائے گی۔ اس کے فائدے بھی بڑے ہوں گے جیسے نئی دوائیں بننا اور سائنس کے مشکل مسئلے حل ہونا، لیکن خطرہ یہ ہے کہ انسان اس پر نظر نہ رکھ سکے گا۔ حالیہ ٹیسٹوں میں کچھ اے آئی سسٹمز نے ویب سائٹس تک غیر قانونی رسائی اور اپنے اصول توڑنے جیسے کام بھی کیے ہیں۔ اسی لیے اینتھروپک کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس دہائی کے اختتام تک خطرناک صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
یہاں 3 چیزیں آڑے آ رہی ہیں، ٹیکنالوجی، کاروبار اور قومی سلامتی۔ ہر کمپنی کو ڈر ہے کہ اگر وہ سست ہوئی تو دوسری کمپنی آگے نکل جائے گی۔ اوپن اے آئی اور اینتھروپک کھربوں ڈالر کی کمپنیاں بننا چاہتی ہیں۔ دوسری طرف امریکی حکومت بھی نہیں چاہتی کہ اے آئی میں سست روی سے چین اس سے آگے نکل جائے۔ اسی لیے صدر ٹرمپ انتظامیہ نے رفتار کم کرنے کی اپیل مسترد کر دی ہے۔
اگرچہ اے آئی فی الحال خود کو مکمل طور پر بہتر نہیں بنا رہی لیکن اس سمت میں کام شروع ہو چکا ہے۔ آج کی اے آئی خود کوڈ لکھ رہی ہے، اینتھروپک کا کہنا ہے کہ اس کے اندرونی پراجیکٹس کا زیادہ تر کوڈ اے آئی ٹول "کلاڈ کوڈ" ہی لکھ رہا ہے۔ اس سے اے آئی کی طاقت بڑھ رہی ہے اور انسانوں کیلئے یہ سمجھنا مشکل ہو رہا ہے کہ اے آئی نے فیصلہ کیسے کیا۔
واضح رہے کہ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ انسانوں کے خاتمے جیسے خطرناک منظرنامے ابھی صرف خدشے ہیں، حقیقت میں ایسا کچھ نہیں۔ پرنسٹن یونیورسٹی کی قیادت میں ہونے والی ایک تحقیق میں جدید اے آئی ایجنٹس نے انجینئرنگ کے بعض کام انجام دیے، لیکن قابلِ قدر سائنسی خیالات کی شناخت میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بڑی کمپنیاں جان بوجھ کر خطرے کی بات بڑھا رہی ہیں تاکہ حکومت سخت قانون بنائے اور چھوٹی کمپنیاں مقابلے سے نکل جائیں۔