خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا آئینی آپشن موجود ہے، حتمی فیصلہ نہیں ہوا: رانا ثنااللہ
اسلام آباد: (نیوز ڈیسک) میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کے حوالے سے گورنر راج کی تمام آئینی صورتیں موجود ہیں، تاہم حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت کے بعض اقدامات اور پولیس ایکٹ میں کی گئی ترامیم وفاق اور صوبے کے اختیارات سے متعلق آئینی سوالات پیدا کرتی ہیں۔
رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ 26 نومبر 2024ء کے واقعات کے بعد دوبارہ اسلام آباد کی طرف مارچ یا حملے کی تیاری کی اجازت آئین اور قانون نہیں دیتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی وزیراعلیٰ، وزیر یا کسی دوسرے شخص کی جانب سے غیرقانونی سرگرمی کی تیاری کی گئی تو اسے روکا جائے گا اور خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔
وزیراعظم کے مشیر نے پی ٹی آئی سے سیاسی طریقے سے جدوجہد آگے بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں موجود رہ کر سیاسی سرگرمی اور انقلاب کی تیاری کے دعوے ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے بعد جو گنجائش رکھی گئی تھی، آئندہ ایسے واقعات کی صورت میں اسے ختم کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔