پاکستانی خواتین میں امراض قلب سے اموات کی شرح جنوبی ایشیا کے 5 ممالک میں سب سے زیادہ

image


کراچی: (ویب ڈیسک) عالمی یوم قلب کے موقع پر کراچی پریس کلب میں فارما ایوو کی جانب سے مہم کا آغاز کیا گیا، جس کا مقصد خواتین میں امراض قلب سے متعلق آگاہی، بروقت تشخیص اور اسکریننگ کو فروغ دینا ہے۔ مہم پاکستان کارڈیک سوسائٹی، سوسائٹی آف آبسٹیٹریشنز اینڈ گائناکالوجسٹس آف پاکستان، پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن اور Go Red for Women کے تعاون سے شروع کی گئی۔

ماہرین صحت نے کہا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، موٹاپا، جسمانی سرگرمی کی کمی، غیر صحت بخش خوراک اور ذہنی دباؤ خواتین میں امراض قلب کے خطرات بڑھاتے ہیں۔ ان کے مطابق حمل، زچگی اور سن یاس کے دوران خواتین کی قلبی صحت پر خصوصی توجہ ضروری ہے، جبکہ حمل کے دوران ہائی بلڈ پریشر کی تشخیص کے بعد زچگی کے بعد بھی باقاعدہ طبی فالو اپ جاری رکھنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق 2026ء میں ایشیا جے اے سی سی میں شائع ہونے والی تحقیق میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، نیپال اور بھوٹان کا تقابلی جائزہ لیا گیا، جس میں 2021ء کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں خواتین میں اسکیمک ہارٹ ڈیزیز سے عمر کے لحاظ سے معیاری اموات کی شرح ان پانچ ممالک میں سب سے زیادہ تھی۔ ماہرین نے خواتین کو باقاعدہ ورزش، متوازن غذا اور تجویز کردہ ادویات کے تسلسل کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ انجیو پلاسٹی کے بعد ادویات ازخود بند کرنا دوبارہ ہارٹ اٹیک کے خطرے میں اضافہ کرسکتا ہے۔