لاہور ہائیکورٹ کا منی لانڈرنگ کیسز پر اہم فیصلہ
لاہور: (نیوز ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ کیسز سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کرنے کیلئے متعلقہ ٹیکس کیس کے حتمی انجام کا انتظار ضروری نہیں۔ دو رکنی بینچ نے ایف بی آر کے انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ونگ کے اختیارات کو چیلنج کرنے والی درخواستیں خارج کرتے ہوئے واضح کیا کہ ٹیکس اور منی لانڈرنگ کے معاملات الگ قانونی نوعیت رکھتے ہیں۔ عدالت کے مطابق زیرِ سماعت ٹیکس کیس کو بنیاد بنا کر منی لانڈرنگ کی تحقیقات یا قانونی کارروائی کو روکا نہیں جا سکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ منی لانڈرنگ کا مقدمہ قائم کرنے کیلئے بنیادی جرم میں پہلے سے سزا کا ہونا لازمی شرط نہیں ہے۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010ء ایک خصوصی قانون ہے اور اس کے تحت مشکوک مالی لین دین کی رپورٹنگ اور تحقیقات قانونی طریقہ کار کا حصہ ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے مطابق ایف بی آر کے متعلقہ ونگ کو منی لانڈرنگ کی ایف آئی آر درج کرنے، تحقیقات کرنے اور قانونی کارروائی آگے بڑھانے کا اختیار حاصل ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ رقم کہاں سے حاصل ہوئی اور کس طریقے سے منتقل کی گئی، اس کا تعین متعلقہ خصوصی عدالتیں کریں گی، جبکہ فوجداری تحقیقات روکنے کیلئے ہائیکورٹ میں رٹ دائر نہیں کی جا سکتی۔ یہ فیصلہ جسٹس خالد اسحاق اور جسٹس حسن نواز مخدوم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جاری کیا، جبکہ کیس میں ایف بی آر کے ڈائریکٹر جنرل آئی اینڈ آئی ان لینڈ ریونیو عقیل احمد صدیقی کی نگرانی میں مؤقف پیش کیا گیا۔ ایف بی آر نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری اور غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی میں قانونی ابہام دور کرنے کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔