ماسکو کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی، بین المذاہب مکالمے اور عالمی امن کے فروغ پر زور

image


ماسکو: (ویب ڈیسک) صدر ہوٹل میں منعقدہ کانفرنس کا اہتمام روحانی اجتماعِ مسلمینِ روس نے روسی حکومتی اداروں، سفارتی حلقوں اور سماجی تنظیموں کے تعاون سے کیا۔ حسین محی الدین قادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا کو جنگوں، نفرت، تقسیم اور عدم برداشت جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کیلئے مذہبی اور روحانی قیادت کو مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا ہے کہ مذاہب کے درمیان مکالمہ صرف کانفرنسوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے امن، انصاف، برداشت اور انسانی احترام کے فروغ کا عملی ذریعہ بنانا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور روس کے درمیان سیاسی و اقتصادی تعاون کے ساتھ علمی، ثقافتی، تعلیمی اور مذہبی روابط کو بھی فروغ دیا جانا چاہیے، جبکہ کانفرنس میں غزہ اور ایران کے متاثرہ شہریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے جنگی کشیدگی اور شہری ہلاکتوں کی روک تھام پر بھی زور دیا گیا۔

کانفرنس میں مذہبی و اخلاقی اقدار کے تحفظ، ریاست اور مذہبی اداروں کے درمیان تعاون، عالمی تنازعات کے پُرامن حل اور مصنوعی ذہانت کو تعلیم، صحت اور سماجی ترقی کیلئے استعمال کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اختتام پر منظور ہونے والی 14 نکاتی قرارداد میں مذہبی ہم آہنگی، عالمی تنازعات کے پُرامن حل اور ریاستی و مذہبی اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا، جبکہ بعد ازاں ماسکو کے سرکاری کریملن محل میں ’’ایمان کی طاقت، قوموں کے اتحاد میں‘‘ کے عنوان سے خصوصی تقریب بھی منعقد ہوئی۔