سینیٹ ملازمین اور اہلخانہ کیلئے کیش لیس ہیلتھ انشورنس سکیم پر غور

image


اسلام آباد: (نیوز ڈیسک) اجلاس میں موجودہ میڈیکل ری ایمبرسمنٹ نظام کو مشکل اور تاخیر کا باعث قرار دیتے ہوئے کیش لیس ہیلتھ انشورنس کے ذریعے ملازمین کو طبی سہولیات فراہم کرنے کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کے مطابق سینیٹ سیکرٹریٹ کے بجٹ وسائل سے گروپ ہیلتھ انشورنس سکیم شروع کی جاسکتی ہے۔

اجلاس میں موجودہ میڈیکل الاؤنس کو ہیلتھ انشورنس کے پریمیم میں ایڈجسٹ کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ سب کمیٹی نے اسٹیٹ لائف انشورنس سے جی ٹو جی بنیاد پر ممکنہ معاہدے کی مزید جانچ پڑتال کی ہدایت کرتے ہوئے انشورنس کوریج، پریمیم اسٹرکچر اور دیگر شرائط و ضوابط کی تفصیلات طلب کرلیں۔

سب کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ میڈیکل انشورنس سے متعلق حتمی فیصلہ مجاز اتھارٹی کرے گی۔ اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ ہیلتھ انشورنس سکیم نافذ ہونے کے بعد ملازمین بیک وقت میڈیکل ری ایمبرسمنٹ اور انشورنس کی سہولت حاصل نہیں کرسکیں گے۔