حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات ناکام، معاملہ ٹوٹا نہیں بلکہ توڑا گیا: کامران مرتضیٰ
اسلام آباد: (نیوز ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات کامیابی کے قریب پہنچ چکے تھے، تاہم حکومتی رویے کے باعث معاملات آگے نہ بڑھ سکے۔ میڈیا گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی کوششوں سے دونوں فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا ہونے کی امید روشن ہوئی تھی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کی شرائط اور پیش کردہ فارمولے کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہو چکی تھی۔
کامران مرتضیٰ کے مطابق پی ٹی آئی احتجاج اور لانگ مارچ ختم کرنے جبکہ اگلے روز بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے اصول پر تیار تھی۔ انہوں نے کہا کہ ثالثی کے ذریعے دونوں فریقین کو اپنے اپنے مؤقف میں کچھ لچک دکھانا تھی تاکہ کسی کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو اور مذاکرات کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکے۔ جے یو آئی سینیٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ احتجاج واپس لینے اور عمران خان سے ملاقات کا معاملہ حکومتی رویے کے باعث ناکام ہوا، کیونکہ ان کے بقول مذاکرات ناکام نہیں ہوئے بلکہ انہیں ناکام بنایا گیا۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے حکومتی ارکان کے ساتھ رابطوں سے مولانا فضل الرحمان کو آگاہ نہیں کیا گیا، جس پر اب تحفظات پیدا ہونا فطری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب فریقین کے درمیان معاملات طے پانے کے قریب تھے تو مذاکرات کا اچانک ناکام ہو جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اس صورتِ حال میں مولانا فضل الرحمان اور جے یو آئی کو شکایت کا حق حاصل ہے۔