دہلی ہائی کورٹ کا ریس کورس مسجد کی بجلی اور پانی بحال کرنے سے انکار
نئی دہلی: (ویب ڈیسک) دہلی ہائی کورٹ نے 15 اکتوبر کو ریس کورس مسجد کی بجلی اور پانی کی فراہمی بحال کرنے سے انکار کر دیا، جنہیں 7 اکتوبر کو منقطع کر دیا گیا تھا۔ یہ مسجد وقف کے تحت نوٹیفائی شدہ جائیداد ہے اور 2009ء میں اسے تاریخی عمارت کی گریڈ 2 فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ مسجد وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے قریب واقع ریس کورس کلب کے احاطے میں قائم ہے، جہاں زمین کے قبضے اور انخلاء سے متعلق قانونی تنازعات بھی جاری ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مسجد کے امام محمد ہارون، جو احاطے میں واقع ایک حجرے میں رہائش پذیر ہیں، نے 21 اکتوبر کو عدالت سے رجوع کرکے بجلی اور پانی کے کنکشن بحال کرنے کی استدعا کی تھی۔ اس سے قبل 8 اکتوبر کو دہلی وقف بورڈ نے نیو دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) کے ایگزیکٹو انجینئر کو خط لکھ کر دونوں سہولیات بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ دوسری جانب، مرکزی حکومت نے اس علاقے کا قبضہ حاصل کرنے کے معاملے میں قومی سلامتی کو جواز بنایا ہے، جبکہ کلب اور اس کے گردونواح کی جھگی بستی بھی انخلاء کے تنازعات کی زد میں ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ معاملے میں حقائق کے سنگین متنازع سوالات موجود ہیں، خصوصاً امام محمد ہارون کے احاطے میں رہنے کے حق اور جائیداد میں ان کے قانونی مفاد کے حوالے سے۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا یہ جائیداد 25 اگست کے فیصلے کے دائرۂ کار سے باہر ہے یا نہیں۔ عدالت کے مطابق یہ معاملات موجودہ آئینی درخواست میں طے نہیں کیے جا سکتے، چنانچہ بجلی اور پانی کی فراہمی بحال کرنے کی استدعا منظور نہیں کی گئی۔