ایکسپورٹرز کے لیے خصوصی ریلیف٬ ٹیکس دو فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کر دیا گیا

image


اسلام آباد: (اکنامکس ڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی طرف سے کہا گیا  ہے کہ ٹیکس شرح میں کمی کی وجہ سے سرمایہ کاری کا انخلا نہیں ہوگا اور آئندہ برسوں میں ٹیکسز کم کرنے کی کوشش کی جائے گی جبکہ ایکسپورٹڑز پر ٹیکس دو فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے ایکسپورٹرز کو 80 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف دیا ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ سب سے پہلے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسز کم کیے گئے، حکومت نے حال ہی میں سپر ٹیکس ختم اور کم کر دیا ہے، سپر ٹیکس کی مد میں 55 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف دیا گیا ہے، نان بینکنگ کمپنیوں پر اب 29 فیصد ٹیکس ہے جبکہ رواں سال فیس لیس ٹیکس سسٹم بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ 

اجلاس میں سینیٹر طلحہ محمود نے سیکریٹری خزانہ کی عدم حاضری پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ سیکریٹری خزانہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سیکریٹری خزانہ کے خلاف تحریک استحقاق پیش کی جائے گی اور وزیراعظم کے سامنے بھی سیکریٹری خزانہ کی عدم حاضری کا معاملہ پیش کیا جائے گا۔ کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹیکس گزار ٹیکس ادا کرکے آڈٹ سے بچ سکتے ہیں، ٹیکس فائلرز کو گوشواروں پر نظرثانی کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔  سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ وہ ایف بی آر میں اصلاحات چاہتے ہیں اور ٹیکس پالیسی کو بہتر کرنا چاہتے ہیں۔

 ایف بی آر حکام کے مطابق پاکستان میں 2022ء کے بحران کے بعد ٹیکسوں میں اضافہ کیا گیا تھا اور اس دوران کچھ فارن ایکسچینج کی پابندیاں بھی عائد کی گئی تھیں، 2022ء کے بعد اس بحران کو حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔