دماغ کی نشوونما سے متعلق سائنس دانوں کا اہم انکشاف

image

کیلیفورنیا: (ویب ڈیسک) سائنس دانوں کی نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دماغ کے اگلے اور پچھلے حصے ممکنہ طور پر ابتدا ہی سے الگ الگ نظام کے طور پر نشوونما پاتے ہیں۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے چوہوں پر تحقیق کے دوران دماغ بنانے والے خلیوں کے دو الگ مجموعے دریافت کیے۔ تحقیق کے مطابق دماغ کے مختلف حصوں کے خلیے ابتدائی مرحلے ہی میں اپنی مخصوص سمت اختیار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

محققین کے مطابق دماغ کا مڈ برین سوچنے، محسوس کرنے اور معلومات کو سمجھنے جیسے کاموں میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جبکہ ہنڈ برین سانس لینے، دل کی دھڑکن اور زندگی کے لیے ضروری دیگر افعال کو کنٹرول کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔ تحقیق میں دیکھا گیا کہ کچھ خلیے ابتدا ہی سے دماغ کے اگلے حصے جبکہ کچھ پچھلے حصے کی جانب مخصوص ہو رہے تھے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اسٹیم سیل تحقیق کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہے۔ محققین نے ابتدائی اسٹیم سیل کو ایسے موٹر نیورون میں تبدیل کرنے میں کامیابی حاصل کی جو پچھلے دماغ میں پائے جانے والے نیورون سے مشابہ ہے۔ اس پیش رفت سے مستقبل میں دماغ اور اعصابی بیماریوں کے مطالعے، بیماریوں کے لیے ماڈل بنانے اور ممکنہ نئے علاج کی تحقیق میں مدد مل سکتی ہے۔