صوبہ ہزارہ۔ ہزارے وال قوم کا ایک دیرینہ مطالبہ

image

دی ویووز نیٹ ورک: آج کل ملک بھر میں نئے صوبوں کے حوالے سے خبریں گردش کر رہی ہیں کہ حکومت مملکت خداداد پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے کوشان نظر آ رہی ہے۔ آج میں آپ کو ان نئی خبروں سے ہٹ کر صوبہ ہزارہ کی جدوجہد اور اس کے مطالبے کی پیچھے کی وجوہات کو انتہائی مختصر کر کے بیان کروں گا۔ 

اگر ہم تاریخ کے اوراق کو پلٹیں تو سال 1987 میں ہزارہ سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوان تعلیم کے سلسلے میں کراچی میں مقیم تھے۔ جب انھیں کوئی پنجاب سے تعلق رکھنے والے لوگ ملتے تو  انھیں پٹھان کہتے تھے اور جب پٹھان ملتے تھے تو وہ انھیں پنجابی کہتے تھے۔ ان نوجوانوں کو یہ بات سخت نالاں گزرتی تھی کہ ہم ایک الگ شناخت کے لوگ ہیں اور ہماری بھی اپنی ایک شناخت ہونی چاہیے۔ اس وقت ان نوجوانوں نے ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نام سے ایک پودا لگایا اور رفتہ رفتہ وہ پودا ہزارے وال لوگوں کو شناخت دیتا گیا اور ایک درخت کی شکل اختیار کرتا گیا۔ 

وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کے اندر اپنی الگ شناخت کا جنون جاگتا گیا اور الگ صوبے کا مطالبہ زور پکڑتا گیا۔ ان نوجوانوں نے ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک جماعت بنائی جس کا نام ہزارہ قومی محاز رکھا گیا اور وہ جماعت صوبہ ہزارہ کا مطالبہ کرنے والی سب سے پہلی جماعت تھی اور آج مسلسل تقریبا چالیس سال سے ہزارہ کاز کو زندہ رکھے ہوئے ہے اور اس کیلئے مسلسل کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس جماعت نے ہر فورم پر اپنے لوگوں کے حقوق کیلئے آواز اٹھائی ہے اور ہزارے وال قوم کو ایک نظریہ دیا ہے جسے آج پوری قوم اپنے ہاتھوں میں تھامے نئے صوبہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

1987 سے ہزارہ کا مطالبہ ہوتا آیا اور بالآخر 2010 میں جب صوبہ سرحد کا نام تبدیل کر کے خیبر پختون خواہ رکھا گیا تو ہزارہ کے لوگوں کی جانب سے زبردست عوامی احتجاج شروع ہو گیا اور عوام کا ایک سمندر امڈ آیا اور لوگوں نے الگ صوبہ جو کہ صوبہ ہزارہ تھا کے قیام کا مطالبہ کردیا اور جب عوامی احتجاج وسیع ہوتا گیا تو اس تحریک کے کارکنان پر زمین تنگ کر دی گئی اور سات نوجوانوں کو شہید کر دیا گیا اور سینکڑوں کے حساب سے پرامن لوگوں کو شدید زخمی کر دیا گیا لیکن عوام کا مطالبہ شدت اختیار کرتا گیا۔

آج یہ مطالبہ ہزارہ دھرتی کے بچے بچے کی زبان پر ہے۔ صوبہ ھزارہ کا مطالبہ کسی لسانی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ ایڈمنسٹریٹو بنیادوں پر ہے۔ ہزارہ کو اللہ نے بے پناہ نعمتوں سے نوازا ہے اور یہاں کے لوگوں کا مطالبہ یہ ہے کہ ہزارہ کے وسائل پر سب سے پہلا حق ہزارہ کے لوگوں کا ہے۔ ہزارہ صوبے کا مطالبہ کسی سیاسی جماعت یا مخصوص طبقے کا مطالبہ نہیں بلکہ ہزارے وال عوام کا آئینی، جمہوری اور دیرینہ حق ہے۔ ہزارہ ڈویژن کے عوام اپنی شناخت، انتظامی ضروریات اور بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے الگ صوبے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ پختونخواہ کی اسمبلی سے تین مرتبہ صوبہ ہزارہ کی قراردادیں منظور ہو چکی ہیں اور اب حکومت پاکستان کو چاہیے کہ صوبہ ہزارہ کا قیام عمل میں لایا جائے اور اسی طرح ملک میں اور بھی نئے صوبے بنائیں جائیں تا کہ ملک میں استحکام آئے۔