مرزا بیدل: عشق، فکر اور معرفت کا بے مثال شاعر

image

دی ویویوز نیٹ ورک: ادب کی تاریخ میں بعض شاعر ایسے گزرے ہیں جنہیں صرف شاعر کہنا ان کے فکری مقام کو محدود کرنا ہے۔ مرزا عبدالقادر بیدلؔ دہلوی بھی انہی غیر معمولی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا کلام محض حسنِ بیان اور لفظی صنعتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ انسان، کائنات، عشق، وجود اور معرفت کے بارے میں ایک گہری فکری جستجو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیدلؔ کا مطالعہ ایک ایسے فکری سفر کی مانند محسوس ہوتا ہے جس میں قاری کو شعر کے ساتھ ساتھ فلسفے اور تصوف کی دنیا میں بھی داخل ہونا پڑتا ہے۔ مرزا عبدالقادر بیدلؔ کا تعلق برصغیر کے اس عہد سے تھا جب فارسی علمی، ادبی اور درباری زبان کی حیثیت سے غیر معمولی اثر رکھتی تھی۔ ان کی پیدائش 1644ء میں پٹنہ کے قریب ہوئی اور زندگی کا بڑا حصہ ہندوستان کے علمی و ادبی ماحول میں گزرا۔ بعد ازاں وہ دہلی میں مقیم ہوئے اور 1720ء میں وفات پائی۔

بیدلؔ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ شعر و ادب، فکر اور روحانی غوروفکر میں گزارا۔ ان کی شخصیت پر صوفیانہ فکر کا گہرا اثر تھا، تاہم ان کا کلام کسی ایک سادہ فکری دائرے میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے ہاں تصوف، فلسفہ، انسانی نفسیات اور کائنات کے اسرار ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ بیدلؔ کی شاعری کی ایک بنیادی خصوصیت خیال کی پیچیدگی ہے۔ وہ عام تجربے کو بھی ایسی فکری گہرائی عطا کرتے ہیں کہ ایک مختصر شعر کئی معنوی جہتیں پیدا کر دیتا ہے۔ ان کے ہاں لفظ صرف لفظ نہیں رہتا بلکہ وہ ایک تصور، ایک سوال اور کبھی ایک پورا فلسفیانہ مسئلہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیدلؔ کو پڑھتے ہوئے قاری کو محض لغت سے نہیں بلکہ غوروفکر سے بھی کام لینا پڑتا ہے۔

ان کی شاعری میں بار بار یہ سوال سامنے آتا ہے کہ انسان حقیقت میں کیا ہے؟ دنیا کیا ہے؟ حقیقتِ وجود کہاں پوشیدہ ہے؟ اور عشق انسان کو ظاہری وجود سے باطنی حقیقت تک کیسے لے جاتا ہے؟ بیدلؔ کے مشہور مصرعے:

"ہرگز نمیرد آنکہ دلش زنده شد بعشق"

کا مفہوم یہی ہے کہ جس دل کو عشق نے زندگی عطا کر دی، اس کی زندگی محض جسمانی زندگی نہیں رہتی۔ یہاں عشق کو صرف رومانوی جذبے کے طور پر سمجھنا بیدلؔ کی فکر کو محدود کر دیتا ہے۔ ان کے ہاں عشق ایک ایسی روحانی قوت ہے جو انسان کو اپنی ذات، دنیا اور حقیقت کے بارے میں نئے شعور تک پہنچاتی ہے۔ اسی لیے بیدلؔ کے ہاں عشق اور معرفت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔ عشق دل کو بیدار کرتا ہے اور بیدار دل حقیقت کی تلاش شروع کرتا ہے۔ 

بیدلؔ کی شہرت کے ساتھ ایک مسئلہ بھی جڑا ہوا ہے کہ ان کی شاعری آسان نہیں ہے۔ ان کے اشعار میں فارسی کے مشکل الفاظ، فلسفیانہ اصطلاحات، صوفیانہ اشارے، استعارات اور تہہ در تہہ معنی موجود ہیں۔ ایک شعر کا ظاہری مفہوم سمجھ لینے کے باوجود اس کی فکری گہرائی تک پہنچنے کیلئے بیدلؔ کے عہد، فارسی روایت اور تصوف کے بنیادی تصورات سے واقفیت ضروری ہو سکتی ہے۔ یہی پیچیدگی ان کی طاقت بھی ہے۔ ہر مرتبہ دوبارہ پڑھنے پر شعر کا کوئی نیا پہلو سامنے آ سکتا ہے۔ بیدلؔ کو سمجھنے کیلئے مغلیہ دور کے ہندوستان کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب فارسی ہندوستان کی علمی، ادبی اور سرکاری زندگی میں انتہائی اہم مقام رکھتی تھی۔ ہندوستانی ماحول نے فارسی ادب کو ایک نئی تہذیبی وسعت دی ہے۔ ایرانی روایت، ہندوستانی فلسفیانہ تصورات، صوفیانہ فکر اور مقامی ادبی تجربات کے امتزاج سے فارسی شاعری کی ایک ایسی فضا پیدا ہوئی جسے بعد میں سبکِ ہندی سے جوڑا گیا ہے۔ بیدلؔ اسی روایت کے سب سے نمایاں اور منفرد نمائندوں میں شمار ہوتے ہیں۔

بیدلؔ کی ادبی عظمت صرف غزل تک محدود نہیں ہے۔ انہوں نے مثنوی، قصائد اور دیگر شعری اصناف کے ساتھ نثری تصانیف بھی چھوڑی ہیں۔ ان کی معروف کتابوں میں "چہار عنصر"، "نکات" اور "رقعات" شامل ہیں۔ ان تحریروں میں ان کی شخصیت، فکری رجحانات اور روحانی تجربات کے مختلف پہلو سامنے آتے ہیں۔ اس اعتبار سے بیدلؔ کا مطالعہ صرف دیوانِ بیدلؔ پڑھنے سے مکمل نہیں ہوتا، ان کی نثر بھی ان کے فکری نظام کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

بیدلؔ کا اثر خاص طور پر افغانستان اور وسطی و جنوبی ایشیا کے فارسی داں معاشروں میں بہت گہرا رہا ہے۔ کابل اور افغانستان کے علمی حلقوں میں ان کا کلام طویل عرصے تک غیر معمولی احترام کے ساتھ پڑھا جاتا رہا ہے۔ اردو کے بڑے شعراء اور اہلِ فکر بھی بیدلؔ سے متاثر ہوئے ہیں۔ مرزا غالبؔ کے کلام اور خطوط میں بیدلؔ سے وابستگی کے آثار نمایاں ہیں۔ غالبؔ نے فارسی شاعری میں بیدلؔ کی پیچیدہ فکری اور اسلوبی روایت سے استفادہ کیا، اگرچہ غالبؔ کی اپنی شعری شخصیت بالآخر منفرد اور جداگانہ بن گئی۔

آج کا انسان ٹیکنالوجی، مادیت اور تیز رفتار زندگی کے درمیان رہتے ہوئے بھی وہی بنیادی سوالات پوچھ رہا ہے جو صدیوں پہلے انسان کے سامنے تھے۔ میں کون ہوں؟ میری حقیقت کیا ہے؟ زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اور انسان کو حقیقی سکون کہاں سے ملتا ہے؟ بیدلؔ کی شاعری ان سوالات کا کوئی آسان نسخہ پیش نہیں کرتی، بلکہ قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہی شاید ان کی سب سے بڑی معاصر اہمیت ہے۔ مرزا عبدالقادر بیدلؔ کو صرف فارسی کے ایک بڑے شاعر کے طور پر دیکھنا ان کے مقام کو محدود کرنا ہوگا۔ وہ ایسے شاعر ہیں جنہوں نے لفظ کے اندر خیال، خیال کے اندر سوال اور سوال کے اندر معرفت تلاش کی ہے۔ ان کا شعر ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ حقیقی زندگی صرف سانس لینے کا نام نہیں؛ دل کا زندہ ہونا بھی ضروری ہے۔

اسی لیے بیدلؔ کا یہ مصرعہ صدیوں کا سفر طے کرکے آج بھی دل پر دستک دیتا ہے:
"ہرگز نمیرد آنکہ دلش زنده شد بعشق"

جس دل میں عشق نے زندگی پیدا کر دی، وہ جسم کے فنا ہو جانے کے بعد بھی اپنے فکر، اپنے فن اور اپنی محبت کے ذریعے زندہ رہتا ہے۔

اور شاید یہی مرزا بیدلؔ کی اپنی زندگی کا سب سے خوبصورت استعارہ ہے: شاعر چلا گیا، مگر اس کا زندہ دل آج بھی اپنے اشعار میں بول رہا ہے۔