جشنِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ سے ملنے والا سبق اور فتنوں کے دور میں ہماری ذمہ داریاں
دی ویووز نیٹ ورک: جشنِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ ہمارے لیے صرف خوشی اور عقیدت کا موقع نہیں بلکہ اپنی زندگی کو سیرتِ طیبہ ﷺ کے مطابق ڈھالنے کی یاد دہانی بھی ہے۔ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت پوری انسانیت کے لیے رحمت، ہدایت اور اخلاقِ حسنہ کا پیغام لے کر آئی۔ آپ ﷺ نے ایسے معاشرے کو امن، عدل، بھائی چارے، رحم اور انسانیت کی تعلیم دی جو جہالت، ظلم اور تعصبات میں گھرا ہوا تھا۔ آج جب معاشرہ مختلف فتنوں، نفرتوں، جھوٹ اور انتشار کا شکار ہے، ہمیں سیرتِ مصطفیٰ ﷺ سے رہنمائی لینے کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔
حضور اکرم ﷺ کی سیرت ہمیں محبت، برداشت، سچائی، امانت اور حسنِ اخلاق کا درس دیتی ہے۔ آپ ﷺ نے دشمنوں کے ساتھ بھی عدل و انصاف کا معاملہ کیا اور کمزوروں، یتیموں، مسکینوں اور محتاجوں کے حقوق کی حفاظت فرمائی۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو ایک دوسرے کی عزت کرنے، تکبر سے بچنے اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی تعلیم دی۔
اس لیے میلادِ مصطفیٰ ﷺ منانے کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں آپ ﷺ کی تعلیمات کو جگہ دیں۔ ہماری زبان سچ بولے، ہمارا کردار پاکیزہ ہو، ہمارے معاملات میں دیانت ہو اور ہمارے دل میں دوسروں کے لیے خیر خواہی پیدا ہو۔
آج سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے جھوٹی خبریں، افواہیں، نفرت انگیز مواد اور بے بنیاد الزامات بہت تیزی سے پھیلتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر خبر کو بغیر تحقیق آگے نہ بڑھائے اور کسی کی عزت، جان یا مال کو نقصان پہنچانے والی بات کا حصہ نہ بنے۔
ہمیں اختلافِ رائے کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔ مسلکی، سیاسی، لسانی اور علاقائی اختلافات کو نفرت اور دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے برداشت، حکمت اور مکالمے کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ حضور اکرم ﷺ نے ہمیں جوڑنے، دلوں کو قریب کرنے اور معاشرے میں امن قائم کرنے کی تعلیم دی ہے۔
ہمیں اپنے گھروں سے اصلاح کا آغاز کرنا چاہیے۔ والدین بچوں کی تربیت سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں کریں، نوجوان اپنی صلاحیتوں کو مثبت کاموں میں استعمال کریں اور ہر فرد اپنے کردار سے معاشرے میں بہتری لانے کی کوشش کرے۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا، کسی ضرورت مند کی مدد کرنا، کسی پریشان شخص کی دلجوئی کرنا اور کسی کے ساتھ انصاف کرنا بھی سیرتِ مصطفیٰ ﷺ پر عمل کا حصہ ہے۔
محبتِ رسول ﷺ صرف الفاظ اور نعروں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہمارے کردار میں نظر آنی چاہیے۔ اگر ہم واقعی نبی کریم ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں آپ ﷺ کی سنت، اخلاق، رحم، عدل، صبر اور عفو و درگزر کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
آج کے پُرفتن دور میں سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہم نفرت کے جواب میں محبت، جھوٹ کے مقابلے میں سچ، ظلم کے مقابلے میں انصاف اور انتشار کے مقابلے میں اتحاد کو فروغ دیں۔ اپنے قول و فعل سے دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں اور معاشرے میں امن و خیر کا سبب بنیں۔
جشنِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی سیرت ہمارے لیے صرف تاریخ کا ایک روشن باب نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا مکمل نمونہ ہے۔ اگر ہم اپنے گھروں، معاشرے اور ملک میں سیرتِ نبوی ﷺ کے اصولوں کو اپنانا شروع کر دیں تو بہت سے فتنے، اختلافات اور معاشرتی مسائل کم ہو سکتے ہیں۔
آئیے اس مبارک موقع پر عہد کریں کہ ہم اپنی زبان، کردار اور معاملات کو سنتِ رسول ﷺ کے مطابق بنانے کی کوشش کریں گے، جھوٹ اور نفرت کو پھیلانے سے بچیں گے، دوسروں کے حقوق ادا کریں گے اور اپنے معاشرے میں امن، محبت، اتحاد اور انسانیت کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ یہی جشنِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کے پیغام کو ہماری عملی زندگی میں زندہ کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔
محمد ﷺ کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے