الحاد کا بیج : تاریخ، سوشل میڈیا اور نئی نسل
دی ویووز نیٹ ورک: درست فلسفہ حقیقت کو سمجھنے کی کوشش ہے جبکہ غلط فلسفہ اپنی سوچ کو حقیقت پر مسلط کرنے کا نام ہے۔ فیس بک، ٹک ٹاک، ایکس (ٹوئیٹر) اور یوٹیوب کے شور میں ایک مخصوص فلسفی گروہ دانشوری اور علم و دلیل کا لبادہ اوڑھ کر سادہ لوح اور باایمان لوگوں کے ذہنوں میں مذہب سے بیزاری، شکوک شبہات اور الجھن کا باعث بن رہا ہے، اس تناظر میں اس مختصر تحقیقی تحریر کے ذریعے تاریخ میں جھانک کر اس سازشی عنصر کو پرکھنا مقصود ہے کہ آخر یہ کہانی کہاں سے شروع ہوئی، کیسے ہمارے معاشرے میں داخل ہوئی اور آج کس طرح ہماری نسلوں کو سوال کے گنجل میں پھنسا کر گمراہی کا سبب بن رہی ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً 600 قبل مسیح میں چارواک اور دیاگوراس ان پہلے لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اپنے قدامت پسند، باطل اور گمراہ کن فلسفے کے مطابق اللہ پاک اور مذاہب کو رد کیا، لیکن باقاعدہ طور پر ایسی سوچ کو 17ویں اور 19ویں صدی کے درمیان اس وقت منظم کیا گیا جب سائنسی انقلاب، روشن خیالی اور کتاب کی اشاعت نے ترقی کی اور اس تحریک میں کلیدی کردار فرانسیسی فلاسفر ہارون دولباخ، جرمن فلسفی لڈوگ فیوراباخ اور برطانوی فلسفی، ماہر معاشیات اور مصنف ڈیوڈ ہیوم نے ادا کیا، جو درحقیقت سقراطی فکر سے خاصی متاثر تھے۔ اپنی بات آگے بڑھانے سے قبل، قارئین کے سامنے مذکورہ شخصیات کی زندگی سے جڑے چند ایسے حقائق رکھنا ضروری سمجھتا ہوں جنہیں جاننا میری بات کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ گزارش یہ بھی ہے کہ اس کالم کو آخر تک ضرور پڑھیں، کیونکہ آگے آنے والا مختصر تعارف محض چند شخصیات کی زندگی کے واقعات نہیں، بلکہ ایسے سوالات اٹھاتے ہیں جو ہمیں اپنے نظریات، اپنی ترجیحات اور اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔
ہارون دولباخ کا والد شراب کا تاجر اور کاشتکار تھا، 1750 میں اپنی کزن سے شادی کی لیکن نامعلوم وجوہات پر وہ انتقال کر گئی، ہارون نے جلد ہی اسی کی چھوٹی بہن سے شادی رچا لی۔ ڈیوڈ ہیوم جس گھرانے میں پیدا ہوا وہ مذہبی تھا، اپنے عقائد کو سمجھنے کیلئے سوال اٹھائے لیکن درست جگہ سوال نہ کرنے اور غلط جواب ملنے پر گمراہ ہوا۔ لڈوگ فیوراباخ کا باپ لبرل نظریات کا پیروکار تھا، لڈوگ نے 1837 میں شادی کی لیکن شادی کے محض 4 سال بعد اپنے دوست کی 16 سالہ بیٹی کے عشق میں مبتلا ہوگیا اور معاشقہ 9 سال برقرار رہا مگر بیوی سے تعلقات خراب سے خراب تر ہوتے گئے۔ ان تینوں شخصیات کی سرسری جھلک اس لئے آپ کے سامنے رکھی کہ واضح ہو کہ جن نظریات کے فالورز آج بڑھ چڑھ کر مذہب اور بالخصوص دین حق اسلام پر انگلی اٹھاتے ہیں ان کے مینٹور اخلاقی اور معاشرتی اعتبار سے ایسے مثالی کردار نہیں تھے جنہیں انسانی زندگی کے لیے فکری رہنما قرار دیا جا سکے۔
اب سوال یہ ہے کہ برصغیر، اور بالخصوص پاکستان میں ملحدانہ نظریات کیسے داخل ہوئے؟ ہماری نئی نسل تک یہ خیالات کن راستوں سے پہنچ رہے ہیں؟ کیا یہ نظریات اچانک پاکستان میں نمودار ہوئے، یا ان کے بیج برطانوی سامراج کے تعلیمی، فکری اور سیاسی مٹی میں بوئے گئے تھے؟ بالکل اگر تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو 19ویں صدی میں لوئی ویوین ڈیریوزیو کا نام ملتا ہے جو ایک روشن خیال اور آزاد سوچ کا مالک پروفیسر تھا، جس نے اپنے طلباء کے اندر اس قدر اللہ کا انکار، مذہب مخالف اور فکری آزادی پیدا کردی کہ اس کی اقتداء میں باقاعدہ بنگال میں ینگ بنگال کے نام سے تحریک نے جنم لیا۔ وہ علم و الفاظ کے بھنور میں اس قدر گمراہ کن نظریات کو پروان چڑھانے لگا کہ اسے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی پاداش میں کالج سے نکال دیا گیا۔ لیکن بیج تو بودیا جاچکا تھا، لوئی کے فالور کو ڈیریوزین کا نام دیا گیا۔
اب پاکستان کی طرف آئیں تو ماضی میں ملحدانہ نظریات، روشن خیالی اور مذہب سے دوری کی زمین کیسے تیار ہوئی؟ اس کیلئے ہمیں قیام پاکستان سے کچھ عرصہ پہلے جانا پڑے گا جب 1935ء میں لندن میں پروگریسیو رائیٹر ایسوسی ایشن (PWA) کی بنیاد رکھی گئی جن کے اہم بانیوں میں سجاد ظہیر، محمود الظفر، اور رشید جہاں شامل تھی۔ اگلے سال 1936ء میں اس تحریک کے زیر اہتمام لکھنؤ میں آل انڈیا اجلاس ہوا اور تجسس کی بات یہ ہے کہ اس کی صدارت منشی پریم چند نے کی تھی۔ اگر مذکورہ شخصیات کے تعلق کو معمولی جانا جائے تو 1931ء کے آس پاس انکی ملاقات ایک ادبی حلقے میں ہوئی، یہ ملاقات جلد ہی گہری قربت میں بدل گئی جسکے نتیجے میں دسمبر 1932ء میں ان کی مجموعی کاوش سے گستاخانہ اور فحاشت نامہ کتاب "انگارے" منظر عام پر آئی۔ اس کتاب میں جہاں جدید ادب، روشن خیالی کا چورن اور عورت کی آزادی کو کتاب کا حصہ بنایا گیا وہیں اللہ پاک، اسلام، حضور نبی اکرم ﷺ، مذہبی شخصیات اور مسلم معاشرتی اقدار کو نشانہ بنایا گیا۔
رشید جہاں، محمود الظفر, سجاد ظہیر کو اگر اخلاقی اقدار کے ترازو میں بھی رکھا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان کی زندگی بھی اسی آزاد خیال نظریے کے گرد گھومتی ہے جیسی ان کے نظریاتی آباؤ اجداد کی تھی۔ ابتداء میں سجاد ظہیر بھارت کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے اہم عہدوں پر رہے جنہیں بعد CPI کی ہدایت پر سبط حسن کے ہمراہ 1948ء میں پاکستان بھیج دیا گیا۔ یہاں آکر سجاد ظہیر نے (CPP) کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کی بنیاد رکھی اور انہیں جنرل سیکرٹری بنادیا گیا۔ سبط حسن جو بھارت میں سیکولر صحافت میں نمایاں مقام رکھتے تھے، پارٹی کے تنظیمی امور پر مامور ہوئے اور باقاعدہ ایک گمراہ کن فلسفے کے تحت عوام بالخصوص پڑھے لکھے نوجوانوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے لگے۔ 1951ء میں راولپنڈی سازش کیس میں سجاد ظہیر نامزد ہوئے لیکن 1955ء میں رہائی کے بعد اپنا مشن مکمل کرکے ایک بار پھر بھارت چلے گئے۔ لیکن سبط حسن نے اپنے مادیت پسند باطل نظریۂ کو آگے بڑھاتے ہوئے 1977ء میں ’’موسیٰ سے مارکس تک‘‘ جیسی مذہب پر تنقیدی کتاب لکھی۔
سبط حسن نے اس کتاب میں تمام مذاہب سمیت نہ صرف دین حق اسلام اور وحی پر کھلی تنقید کی بلکہ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر کمیونیزم کا الزام بھی تراشہ، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گزشتہ چند سالوں کی محنت اور کمزور ذہنوں میں یہ کتاب اتنی مقبول ہوئی کہ 1988ء تک اس کے 9 ایڈیشن شائع ہوچکے تھے۔ اس کتاب کے علاؤہ انہوں نےThe Battle of Ideas in Pakistan بھی لکھی جس میں ریاست پاکستان کے مستقبل اور بانیان پاکستان کو سیکولر نظریات سے جوڑنے کوشش کی جسے آج بھی بظاہر پڑھا لکھا طبقہ بطور مثال اور تاریخ پیش کرتا ہے جبکہ اس نظریے کے پیچھے چھپی حقیقت کچھ اور ہی تھی۔
جاری ہے!